کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وکالہ کا بیان
باب
حاضر اور غائب کو وکیل بنانا جائز ہے۔
حدیث نمبر
2152
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ لِرَجُلٍ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنْ الْإِبِلِ فَجَائَهُ يَتَقَاضَاهُ فَقَالَ أَعْطُوهُ فَطَلَبُوا سِنَّهُ فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ إِلَّا سِنًّا فَوْقَهَا فَقَالَ أَعْطُوهُ فَقَالَ أَوْفَيْتَنِي أَوْفَی اللَّهُ بِکَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خِيَارَکُمْ أَحْسَنُکُمْ قَضَائً
ابو نعیم، سفیان، سلمہ، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک خاص عمر کا اونٹ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر کسی کا قرض تھا، وہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تقاضا کرنے کے لئے آیا، تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا اسے دیدو لوگوں نے اس عمر کا اونٹ تلاش کیا، اس عمر کا اونٹ تو نہ ملا لیکن اس سے زائد عمر کا اونٹ ملا، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو دیدو، اس آدمی نے کہا آپ نے میرا حق پورا دیدیا، ﷲ آپ کو بھی پورا دے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرض کو اچھے طور پر ادا کرے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment