کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
وکالہ کا بیان
باب
جب چرواہا یا وکیل بکری کو مرتا ہوا دیکھے یا کوئی چیز بگڑتی ہوئی دیکھے تو وہ اس کو ذبح کردے، یا بگڑتی ہوئی چیز کو درست کر دے۔
حدیث نمبر
2151
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ سَمِعَ الْمُعْتَمِرَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَتْ لَهُمْ غَنَمٌ تَرْعَی بِسَلْعٍ فَأَبْصَرَتْ جَارِيَةٌ لَنَا بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا مَوْتًا فَکَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ فَقَالَ لَهُمْ لَا تَأْکُلُوا حَتَّی أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُرْسِلَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَسْأَلُهُ وَأَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَاکَ أَوْ أَرْسَلَ فَأَمَرَهُ بِأَکْلِهَا قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَيُعْجِبُنِي أَنَّهَا أَمَةٌ وَأَنَّهَا ذَبَحَتْ تَابَعَهُ عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ
اسحق بن ابراہیم، معتمر، عبید ﷲ ، نافع، ابن کعب بن مالک اپنے والد (کعب بن مالک) سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس بکریاں تھیں جو مقام سلع میں چرتی تھیں، ہماری ایک لونڈی نے دیکھا کہ ہماری ایک بکری مر رہی ہے تو اس نے ایک پتھر توڑا کر اس سے اس بکری کو ذبح کر ڈالا، کعب نے لوگوں سے کہا تم نہ کھاؤ جب تک میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے نہ پوچھ لوں یا یہ کہا کہ کسی کو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیج دوں کہ وہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کر لے، انہوں نے خود اس کے متعلق نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا، یا اس نے پوچھا جس کو انہوں نے بھیجا تھا، آپ نے اس کے کھانے کا حکم دیا، عبید ﷲ کا بیان ہے کہ مجھے یہ بات بہت اچھی معلوم ہوئی کہ اس نے لونڈی ہو کر بکری ذبح کر دی، عبدہ نے عبید ﷲ سے اس کے متا بع حدیث روایت کی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment