کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مساقات کا بیان
باب
پانی کی تقسیم کا بیان اور بعض لوگ اس کے قائل ہیں کہ پانی کا خیرات کرنا اور اس کا حصہ کرنا اور اس کی وصیت جائز ہے۔
حدیث نمبر
2190
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ أَصْغَرُ الْقَوْمِ وَالْأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ يَا غُلَامُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَهُ الْأَشْيَاخَ قَالَ مَا کُنْتُ لِأُوثِرَ بِفَضْلِي مِنْکَ أَحَدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ
سعید بن ابی مریم، ابوغسان، ابوحازم، سہل بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا، تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے پی لیا، آپ کے دائیں طرف ایک کمسن لڑکا تھا اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف معمر اور بوڑھے لوگ تھے، آپ نے فرمایا اے بچے کیا تو اجازت دیتا ہے، کہ میں یہ بوڑھوں کو دے دوں، اس نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کا جھوٹا لینے کیلئے اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا، چناچہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیالہ اس بچے کو دیدیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment