Tuesday, February 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2191


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مساقات کا بیان
باب
پانی کی تقسیم کا بیان اور بعض لوگ اس کے قائل ہیں کہ پانی کا خیرات کرنا اور اس کا حصہ کرنا اور اس کی وصیت جائز ہے۔
حدیث نمبر
2191
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهَا حُلِبَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ دَاجِنٌ وَهِيَ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَشِيبَ لَبَنُهَا بِمَائٍ مِنْ الْبِئْرِ الَّتِي فِي دَارِ أَنَسٍ فَأَعْطَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ مِنْهُ حَتَّی إِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ مِنْ فِيهِ وَعَلَی يَسَارِهِ أَبُو بَکْرٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ عُمَرُ وَخَافَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِيَّ أَعْطِ أَبَا بَکْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدَکَ فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ الَّذِي عَلَی يَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ
ابو الیمان، شعیب، زہری بیان کرتے ہیں، کہ مجھ سے انس بن مالک نے بیان کیا، کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک بکری انس بن مالک کے گھر میں پالی گئی تھی، اس کو آپ کے لئے دوہا گیا اور اس دودھ میں اس کنویں کا پانی ملایا گیا جو انس بن مالک کے گھر میں تھا، پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو پیالہ دیا گیا تو آپ نے اس سے پی لیا، یہاں تک کہ جب پیالہ اپنے منہ سے جدا کیا اس حال میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف ابوبکر تھے اور دائیں طرف ایک اعرابی تھا حضرت عمر کو خیال ہوا کہ کہیں آپ وہ پیا لہ اعرابی کو نہ دیدیں اس لئے انہوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر کو دیجئے جو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہیں لیکن آپ نے پیالہ اعرابی کو دیا جو آپ کے دائیں طرف تھا، پھر فرمایا دائیں طرف کا آدمی زیادہ حقدار ہے پھر جو اس کی دائیں طرف ہو-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment