کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مساقات کا بیان
باب
پانی پلانے کا ثواب
حدیث نمبر
2200
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ يَمْشِي فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَنَزَلَ بِئْرًا فَشَرِبَ مِنْهَا ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا هُوَ بِکَلْبٍ يَلْهَثُ يَأْکُلُ الثَّرَی مِنْ الْعَطَشِ فَقَالَ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ بِي فَمَلَأَ خُفَّهُ ثُمَّ أَمْسَکَهُ بِفِيهِ ثُمَّ رَقِيَ فَسَقَی الْکَلْبَ فَشَکَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا قَالَ فِي کُلِّ کَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ
عبد ﷲ بن یوسف، مالک، سمی، ابوصالح، ابوہریرہ، سے روایت ہے، کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی چل رہا تھا، اسی دوران میں اسے پیاس لگی وہ ایک کنویں میں اترا اور اس سے پانی پیا، کنویں سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے کہا کہ اس کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہو گی جیسی مجھے لگی تھی، چناچہ اس نے اپنا موزہ پانی سے بھرا پھر اس کو منہ سے پکڑا پھر اوپر چڑھا اور کتے کو پانی پلایا ﷲ نے اس کی نیکی قبول کی، اور اس کو بخش دیا، لوگوں نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کیا چوپائے میں بھی ہمارے لئے اجر ہے، آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر تر جگر والے یعنی جاندار میں ثواب ہے، حماد بن سلمہ اور ربیع بن مسلم بن محمد نے زیاد سے اس کے متابع حدیث روایت کی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment