Tuesday, February 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2199


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مساقات کا بیان
باب
بلند کھیت والا ٹخنوں تک پانی بھرلے۔
حدیث نمبر
2199
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ فِي شِرَاجٍ مِنْ الْحَرَّةِ يَسْقِي بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْقِ يَا زُبَيْرُ فَأَمَرَهُ بِالْمَعْرُوفِ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَی جَارِکَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ کَانَ ابْنَ عَمَّتِکَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ يَرْجِعَ الْمَائُ إِلَی الْجَدْرِ وَاسْتَوْعَی لَهُ حَقَّهُ فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ أُنْزِلَتْ فِي ذَلِکَ فَلَا وَرَبِّکَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّی يُحَکِّمُوکَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ قَالَ لِي ابْنُ شِهَابٍ فَقَدَّرَتْ الْأَنْصَارُ وَالنَّاسُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ حَتَّی يَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ وَکَانَ ذَلِکَ إِلَی الْکَعْبَيْنِ
محمد، مخلد، ابن جریج، ابن شہاب، عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ ایک انصاری نے زبیر سے حرہ کی ندی کے متعلق جھگڑا کیا، جس سے کھجور کے درختوں کو سیراب کرتے تھے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے زبیر اپنی زمین سیراب کر لے پھر دستور کے مطابق ان کو حکم دیا، کہ اپنے پڑوسی کیلئے چھوڑ دیں تو انصاری نے کہا چونکہ وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا (تو آپ نے فرمایا) پھر سیراب کرلے پھر روک دے یہاں تک کہ پانی کھیت کی دیوار تک پہنچ جائے اور زبیر کو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا پورا پورا حق دلوا دیا- زیبر نے کہا کہ بخدا یہ آیت (فَلَا وَرَبِّکَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّی يُحَکِّمُوکَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ) الخ اسی کے متعلق نازل ہوئی ہے اور ابن شہاب کا بیان ہے کہ انصار اور تمام لوگوں نے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کا کہ- بھر لے یہاں تک کہ کھیت کی دیواروں تک پہنچ جائے،، یہ اندا زہ لگایا ہے کہ ٹخنوں تک پانی پہنچ جائے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment