Tuesday, February 1, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2215


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مساقات کا بیان
باب
کھجور کے باغ میں کسی شخص کے گزرنے کا راستہ ہو یا پانی کا کوئی چشمہ ہو۔
حدیث نمبر
2215
حدثناعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنْ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَعَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ فِي الْعَبْدِ
عبد ﷲ بن یوسف، لیث، ابن شہاب، سالم بن عبدﷲ ، عبدﷲ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کھجور کا درخت پیوند لگائے جانے کے بعد خریدا تو اس کا پھل بائع کا ہے، لیکن جب خریدار اس کی شرط کر دے (تو خریدار کا ہوگا) اور جس نے غلام خریدا اور اس کے پاس مال تھا، تو اس کا مال بیچنے والے کا ہے، مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی شرط کر لے، اور بواسطہ مالک، نافع، ابن عمر، جو حدیث ہے، اس میں صرف غلام کا بیان ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment