کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
مکاتب سے کونسی شرط کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر
2385
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَرَادَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً لِتُعْتِقَهَا فَقَالَ أَهْلُهَا عَلَی أَنَّ وَلَائَهَا لَنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعُکِ ذَلِکِ فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ
عبد ﷲ بن یوسف مالک نافع عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے چاہا کہ ایک لونڈی خریدیں تاکہ اسے آزاد کریں تو اس کے مالک نے کہا (کہ ہم بیچتے ہیں) اس شرط پر کہ ولا ہم لیں گے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں یہ شرط (اس کی خریداری سے) نہ روکے اس لیے کہ ولاء کا مستحق تو وہی ہے جو آزاد کرے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment