کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
مکاتب کے مدد چاہنے اور لوگوں سے سوال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2386
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَائَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ إِنِّي کَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ فِي کُلِّ عَامٍ وَقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنْ أَحَبَّ أَهْلُکِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَکِ فَعَلْتُ وَيَکُونَ وَلَاؤُکِ لِي فَذَهَبَتْ إِلَی أَهْلِهَا فَأَبَوْا ذَلِکَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِکَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَکُونَ الْوَلَائُ لَهُمْ فَسَمِعَ بِذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ خُذِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمْ الْوَلَائَ فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ رِجَالٍ مِنْکُمْ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَأَيُّمَا شَرْطٍ لَيْسَ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَةَ شَرْطٍ فَقَضَائُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْکُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَعْتِقْ يَا فُلَانُ وَلِيَ الْوَلَائُ إِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ
عبید بن اسمٰعیل ابواسامہ ہشام اپنے والد (عروہ) سے وہ حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ بریرہ میرے پاس آئی اور اس نے کہا کہ میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ چاندی کے عوض اس طور پر کتابت کرلی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ چاندی دوں گی اس لیے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میری مدد کیجئے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ اگر تمہارے مالک چاہیں تو میں یہ (رقم) انہیں ایک ہی بار دے دوں اور تمہیں آزاد کردوں اور تیری ولاء میں لے لوں گی وہ اپنے مالکوں کے پاس گئی لیکن ان لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا بریرہ نے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے آکر کہا کہ ان لوگوں نے انکار کیا مگر اس شرط پر کہ ولاء کے مستحق وہی لوگ ہوں گے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے یہ سنا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس کو لے لو اور آزاد کردو ان کے لیے ولاء کی شرط منظور کرلو اس لیے کہ ولاء تو آزاد کرنے والے کو ملتی ہے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ﷲ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا اما بعد تم میں سے بعض لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب ﷲ میں نہیں ہے تو وہ باطل ہے اگرچہ سو شرطیں لگائے ﷲ کا حکم عمل کا زیادہ مستحق ہے اور ﷲ کی شرط زیادہ مستحکم ہے تم میں سے بعض کو کیا ہوگیا ہے کہ کہتا ہے اے فلاں آزاد کردے اور اس کی ولاء میں لوں گا ولاء تو صرف وہی لے گا جو آزاد کرے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment