Wednesday, February 16, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2404


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
اس شخص کا بیان جو اپنے دوست کو تحفہ بھیجنے میں خاص اس دن کا انتظار کرے جب اس کی باری ایک خاص بیوی کے پاس رہنے کی ہو۔
حدیث نمبر
2404
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نِسَائَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُنَّ حِزْبَيْنِ فَحِزْبٌ فِيهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ وَصَفِيَّةُ وَسَوْدَةُ وَالْحِزْبُ الْآخَرُ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ نِسَائِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ الْمُسْلِمُونَ قَدْ عَلِمُوا حُبَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ فَإِذَا کَانَتْ عِنْدَ أَحَدِهِمْ هَدِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُهْدِيَهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَهَا حَتَّی إِذَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ بَعَثَ صَاحِبُ الْهَدِيَّةِ بِهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَکَلَّمَ حِزْبُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْنَ لَهَا کَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُکَلِّمُ النَّاسَ فَيَقُولُ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً فَلْيُهْدِهِ إِلَيْهِ حَيْثُ کَانَ مِنْ بُيُوتِ نِسَائِهِ فَکَلَّمَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ بِمَا قُلْنَ فَلَمْ يَقُلْ لَهَا شَيْئًا فَسَأَلْنَهَا فَقَالَتْ مَا قَالَ لِي شَيْئًا فَقُلْنَ لَهَا فَکَلِّمِيهِ قَالَتْ فَکَلَّمَتْهُ حِينَ دَارَ إِلَيْهَا أَيْضًا فَلَمْ يَقُلْ لَهَا شَيْئًا فَسَأَلْنَهَا فَقَالَتْ مَا قَالَ لِي شَيْئًا فَقُلْنَ لَهَا کَلِّمِيهِ حَتَّی يُکَلِّمَکِ فَدَارَ إِلَيْهَا فَکَلَّمَتْهُ فَقَالَ لَهَا لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلَّا عَائِشَةَ قَالَتْ فَقَالَتْ أَتُوبُ إِلَی اللَّهِ مِنْ أَذَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ إِنَّ نِسَائَکَ يَنْشُدْنَکَ اللَّهَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ فَکَلَّمَتْهُ فَقَالَ يَا بُنَيَّةُ أَلَا تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ قَالَتْ بَلَی فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ فَقُلْنَ ارْجِعِي إِلَيْهِ فَأَبَتْ أَنْ تَرْجِعَ فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ فَأَتَتْهُ فَأَغْلَظَتْ وَقَالَتْ إِنَّ نِسَائَکَ يَنْشُدْنَکَ اللَّهَ الْعَدْلَ فِي بِنْتِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ فَرَفَعَتْ صَوْتَهَا حَتَّی تَنَاوَلَتْ عَائِشَةَ وَهِيَ قَاعِدَةٌ فَسَبَّتْهَا حَتَّی إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَنْظُرُ إِلَی عَائِشَةَ هَلْ تَکَلَّمُ قَالَ فَتَکَلَّمَتْ عَائِشَةُ تَرُدُّ عَلَی زَيْنَبَ حَتَّی أَسْکَتَتْهَا قَالَتْ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی عَائِشَةَ وَقَالَ إِنَّهَا بِنْتُ أَبِي بَکْرٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ الْکَلَامُ الْأَخِيرُ قِصَّةُ فَاطِمَةَ يُذْکَرُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالَ أَبُو مَرْوَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ کَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ وَعَنْ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَرَجُلٍ مِنَ المَوَالِي عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَتْ عَائِشَةُ کُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْ فَاطِمَةُ
اسمٰعیل برادر اسمعیل (عبدالحمید بن ابی اویس) سلیمان ہشام بن عروہ عروہ حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی بیویوں کی دو جماعتیں تھیں ایک میں حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا حفصہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ، صفیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت سودہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تھیں اور دوسری میں ام سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا اور تمام بیویاں تھیں اور مسلمانوں کو معلوم تھا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کو محبوب رکھتے ہیں جب ان میں سے کسی کے پاس ہدیہ ہوتا اور اس کو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بھیجنا چاہتا تو انتظار کرتا یہاں تک کہ جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ہوتے تو ہدیہ والا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے گھر میں بھیجتا ام سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی جماعت نے گفتگو کی اور ام سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم لوگوں سے فرما دیں کہ جو شخص آپ کو ہدیہ بھیجنا چاہے تو بھیج دے چاہے اپنی بیویوں میں سے جس کے پاس بھی آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہوں چناچہ ام سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے ان کے کہنے کے مطابق آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ بھی جواب نہ دیا ان بیویوں نے ام سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ بیان کیا کہ جب میری باری آئی تو میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ بھی جواب نہ دیا انہوں نے کہا کہ پھر عرض کرو چناچہ جب ان کی باری آئی تو عرض کیا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے متعلق اذیت نہ دو اس لیے کہ وحی میرے پاس اسی وقت آتی ہے جب میں عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے کپڑوں میں ہوتا ہوں ام سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا میں آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت پہنچانے سے توبہ کرتی ہوں یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم پھر ان لوگوں نے حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا بنت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس یہ عرض کرنے کے لیے بھیجا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی بیٹی کے متعلق انصاف کرنے کے لیے خدا کا واسطہ دیتی ہیں حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے میری بیٹی کیا تجھے اس سے محبت نہیں ہے جس سے میں محبت کرتا ہوں؟ حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کیوں نہیں پھر وہ لوٹ کو ان لوگوں کے پاس آئیں اور ان سے حالات بیان کیے ان لوگوں نے دوبارہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جانے کو کہا تو انہوں نے دوبارہ جانے سے انکار کیا پھر ان لوگوں نے زینب بنت جحش کو بھیجا وہ آئیں اور سختی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ابن قحافہ کی بیٹی کے متعلق انصاف کے لیے آپ کو ﷲ کا واسطہ دیتی ہیں اور انہوں نے اپنی آواز بلند کرلی یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کو برا بھلا کہا جو وہاں بیٹھی ہوئی تھیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی طرف دیکھنے لگے کہ کچھ بولتی ہیں یا نہیں حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا بولنے لگیں اور حضرت زینب کی باتوں کا جواب دیا یہاں تک کہ ان کو خاموش کردیا تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا کہ آخر ابوبکر کی بیٹی ہیں امام بخاری نے کہا کہ آخری قصہ یعنی حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کا قصہ ہشام بن عروہ سے منقول ہے وہ ایک آدمی سے بواسطہ زہری محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں اور ابومروان نے بواسطہ ہشام عروہ بیان کیا کہ لوگ ہدیہ بھیجنے میں حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی باری کا انتظار کرتے تھے اور ہشام ایک قریشی آدمی سے اور ایک غلام سے بواسطہ زہری محمد بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام روایت کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس تھی تو حضرت فاطمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے اجازت چاہی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment