کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
بعض لوگوں نے غائب چیز کے ہبہ کا جائز خیال کیا ہے۔
حدیث نمبر
2406
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ ذَکَرَ عُرْوَةُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَرْوَانَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَائَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ قَامَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَکُمْ جَائُونَا تَائِبِينَ وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِکَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَکُونَ عَلَی حَظِّهِ حَتَّی نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيئُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَقَالَ النَّاسُ طَيَّبْنَا لَکَ
سعید بن ابی مریم لیث عقیل ابن شہاب عروہ مسور بن مخرمہ اور مروان نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پس ہوازن کا وفد آیا تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ﷲ کی تعریف بیان کی جو اس کے شایان شان ہے پھر فرمایا اما بعد! تمہارے بھائی ہمارے پاس تائب ہوکر آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کو ان کے قیدی واپس کردوں جو شخص تم میں سے یہ بطیب خاطر کرنا چاہے تو یہ کرے اور جو شخص اپنا حصہ قائم رکھنا چاہے یہاں تک کہ سب سے پہلے ﷲ تعالیٰ ہم لوگوں کو جو مال غنیمت عطا کرے ہم اس کو اس میں سے دے دیں لوگوں نے عرض کیا ہم بخوشی ایسا کرنے کو تیار ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment