کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
کسی مجبوری کی بناء پر ہدیہ قبول نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
2418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْأَزْدِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْأُتْبِيَّةِ عَلَی الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ هَذَا لَکُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي قَالَ فَهَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ بَيْتِ أُمِّهِ فَيَنْظُرَ يُهْدَی لَهُ أَمْ لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا جَائَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَی رَقَبَتِهِ إِنْ کَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَائٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ بِيَدِهِ حَتَّی رَأَيْنَا عُفْرَةَ إِبْطَيْهِ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ثَلَاثًا
عبد ﷲ بن محمد سفیان زہری عروہ بن زبیر ابوحمید ساعدی سے روایت کرتے ہین انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ازد کے ایک شخص کو جس کو ابن لتبیہ کے نام سے پکارا جاتا تھا صدقہ وصول کرنے پر مقرر فرمایا جب وہ وصولکرکے واپس آئے تو کہا یہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا مال ہے اور یہ میرا ہے جو مجھے بھیجا گیا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو اپنے باپ یا ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ رہا پھر دیکھتا کہ تحفہ بھیجا جاتا ہے یا نہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو شخص اس (صدقہ) کے مال سے کوئی چیز لے گا تو وہ قیامت کے دن اپنی گردن پر لاد کر لائے گا اگر اونٹ ہوگا تو وہ بول رہا ہوگا گائے ہوگی تو وہ بول رہی ہوگی بکری ہوگی تو وہ ممیار رہی ہوگی پھر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھایا یہاں تک کہ ہم نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بغل کی سفیدی دیکھی اے میرے ﷲ کیا میں نے پہنچا دیا اے میرے ﷲ کیا میں نے پہنچا دیا تین بار آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment