Wednesday, February 16, 2011

Sahi Bukhari, Jild 1, Hadith no:2422


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
مکاتب کرنے کا بیان
باب
اگر کوئی شخص اپنا قرض کسی کو ہبہ کر دے۔
حدیث نمبر
2422
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا فَاشْتَدَّ الْغُرَمَائُ فِي حُقُوقِهِمْ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَلَّمْتُهُ فَسَأَلَهُمْ أَنْ يَقْبَلُوا ثَمَرَ حَائِطِي وَيُحَلِّلُوا أَبِي فَأَبَوْا فَلَمْ يُعْطِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطِي وَلَمْ يَکْسِرْهُ لَهُمْ وَلَکِنْ قَالَ سَأَغْدُو عَلَيْکَ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَغَدَا عَلَيْنَا حِينَ أَصْبَحَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ وَدَعَا فِي ثَمَرِهِ بِالْبَرَکَةِ فَجَدَدْتُهَا فَقَضَيْتُهُمْ حُقُوقَهُمْ وَبَقِيَ لَنَا مِنْ ثَمَرِهَا بَقِيَّةٌ ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ اسْمَعْ وَهُوَ جَالِسٌ يَا عُمَرُ فَقَالَ أَلَّا يَکُونُ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّکَ لَرَسُولُ اللَّهِ
عبدان عبدﷲ یونس لیث نے اس طرح سند بیان کیا یونس ابن شہاب ابن کعب بن مالک جابر بن عبدﷲ نے بیان کیا کہ میرے والد جنگ احد میں شہید ہوئے تو ان کے قرض خواہ اپنے حقوق کے مطالبہ میں سختی کرنے لگے میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے حالات بیان کیے اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں سے سفارش کی کہ میرے باغ کا پھل لے لیں اور میرے والد کا قرض چھوڑ دیں لیکن ان لوگوں نے انکار کیا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کومیرا باغ نہیں دیا اور نہ ان کے لیے پھل تڑوایا بلکہ فرمایا کہ میں تمہارے پاس صبح آؤں گا جب صبح ہوئی تو آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور کھجور کے درخت کے پاس گھومے اور اس کے پھل میں برکت کی دعا کی پھرمیں نے ان پھلوں کو توڑا اور ان کے حقوق ادا کردیئے اور میرے پاس اس کا پھل بچ گیا پھر میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے میں نے آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حال بیان کیا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے جو وہاں پر بیٹھے ہوئے تھے فرمایا اے عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سنو! حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا ہمیں تو معلوم ہی ہے کہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ﷲ کے رسول ہیں بخدا آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ﷲ کے رسول ہیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment