کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
گواہیوں کا بیان
باب
چھپے ہوئے آدمی کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر
2456
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا جَائَتْ امْرَأَةُ رِفاعَةَ الْقُرَظِيِّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَأَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ إِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَقَالَ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَی رِفَاعَةَ لَا حَتَّی تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَکِ وَأَبُو بَکْرٍ جَالِسٌ عِنْدَهُ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ أَلَا تَسْمَعُ إِلَی هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبد ﷲ بن محمد سفیان زہری حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رفاعہ قرضی کی بیوی نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی انہوں نے مجھے طلاق بتہ یعنی تین طلاقیں دے دیں پھر میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کرلیا لیکن ان کے پاس کپڑے کے حاشیے کی طرح ہے (یعنی نامرد ہیں) آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تو رفاعہ کے پاس پھر جانا چاہتی ہے یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تو عبدالرحمن سے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہو لیں اور حضرت ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور خالد بن سعید بن عاص دروازے پر حاضری کی اجازت کے منتظر تھے خالد نے کہا اے ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کیا تم اس عورت کی بات نہیں سنتے ہو کہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے بآواز بلند بات کر رہی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment