Saturday, March 5, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:125, Total Hadith no: 2661

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيُّ قَالَ أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْنِي بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَافَرْتُ مَعَهُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَالَ أَبُو عَقِيلٍ لَا أَدْرِي غَزْوَةً أَوْ عُمْرَةً فَلَمَّا أَنْ أَقْبَلْنَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَعَجَّلَ إِلَی أَهْلِهِ فَلْيُعَجِّلْ قَالَ جَابِرٌ فَأَقْبَلْنَا وَأَنَا عَلَی جَمَلٍ لِي أَرْمَکَ لَيْسَ فِيهِ شِيَةٌ وَالنَّاسُ خَلْفِي فَبَيْنَا أَنَا کَذَلِکَ إِذْ قَامَ عَلَيَّ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ اسْتَمْسِکْ فَضَرَبَهُ بِسَوْطِهِ ضَرْبَةً فَوَثَبَ الْبَعِيرُ مَکَانَهُ فَقَالَ أَتَبِيعُ الْجَمَلَ قُلْتُ نَعَمْ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فِي طَوَائِفِ أَصْحَابِهِ فَدَخَلْتُ إِلَيْهِ وَعَقَلْتُ الْجَمَلَ فِي نَاحِيَةِ الْبَلَاطِ فَقُلْتُ لَهُ هَذَا جَمَلُکَ فَخَرَجَ فَجَعَلَ يُطِيفُ بِالْجَمَلِ وَيَقُولُ الْجَمَلُ جَمَلُنَا فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَعْطُوهَا جَابِرًا ثُمَّ قَالَ اسْتَوْفَيْتَ الثَّمَنَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ الثَّمَنُ وَالْجَمَلُ لَکَ

مسلم ابوعقیل ابوالمتو کل ناجی کا بیان ہے، کہ میں نے حضرت جابر بن عبدﷲ انصاری کے پاس جا کر کہا اس مسئلہ میں جو کچھ آپ نے رسول ﷲ سے سنا ہو، مجھے سے بیان کیجئے انہوں نے کہا میں کسی سفر میں آپ کے ساتھ تھا، ابوعقیل کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ وہ جہاد کا سفر تھا، یا عمرے کا لیکن جب ہم لوٹنے لگے، تو رسول ﷲ نے فرمایا، جو شخص اپنے گھر والوں کے پاس جلد لوٹ جانا چاہے وہ جلدی کرے، جابر کہتے ہیں، پھر ہم چلے اور میں اپنے الگ رنگی اونٹ پر سوار تھا، اور دوسرے لوگ میرے پیچھے تھے، میں اس طرح چلا جا رہا تھا کہ یکایک وہ اونٹ تھک کر کھڑا ہوگیا، رسول ﷲ نے فرمایا جابر ٹھہر جاؤ، اور آپ نے اسے اپنے کوڑے سے ایک دفعہ مارا تو وہ اونٹ تیز چلنے لگا، آپ نے فرمایا کیا تم یہ اونٹ بیچو گے؟ میں عرض کیا جی ہاں! جب ہم مدینہ پہنچ گئے اور رسول ﷲ اپنے صحابہ کی جماعت کے ہمراہ مسجد میں تشریف لے گئے تو میں بھی آپ کے پاس گیا اونٹ کو میں نے بلاط کے ایک گوشہ میں باندھ دیا تھا پھر دوران نشست میں نے حضرت سے عرض کیا آپ کا اونٹ ہے، آپ باہر تشریف لائے اور اونٹ کو چکردینے لگے، اور مجھ سے یہ فرمایا ہاں یہ اونٹ تو ہمارا ہی ہے، پھر رسول ﷲ نے چند اوقیہ سونا بھیجا اور فرمایا یہ جابر کو دیدو، اس کے بعد فرمایا کہ تم نے پوری قیمت لے لی، میں نے عرض کیا جی ہاں! فرمایا اب یہ اونٹ اور قیمت دونوں تمہارے ہیں



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = دوسرے کے جانور کو جہاد میں مارنے والے کا بیان۔
جلد نمبر  2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر  125
ٹوٹل حدیث نمبر  2661


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment