Friday, March 18, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:189, Total Hadith no: 2725

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ أَكُنْتُمْ فَرَرْتُمْ يَا أَبَا عُمَارَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ بِسِلَاحٍ فَأَتَوْا قَوْمًا رُمَاةً جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِي نَصْرٍ مَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ فَأَقْبَلُوا هُنَالِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَابْنُ عَمِّهِ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ فَنَزَلَ وَاسْتَنْصَرَ ثُمَّ قَالَ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ثُمَّ صَفَّ أَصْحَابَهُ.

عمرو بن خالد، زبیر، ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں، میں نے حضرت براء سے سنا، ان سے ایک شخص نے پوچھا تھا، ابوعمارہ کیا تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں خدا کی قسم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نہیں بھاگے بلکہ آپ کے نوعمر اصحاب جن کے پاس ہتھیار نہ تھے وہ چلے گئے تھے، اور وجہ یہ ہوئی کہ ان کا واسطہ قبیلہ ہو ازن اور بنی نصر کے تیر اندازوں سے پڑاوہ ایسے مشاق تھے کہ ان کا کوئی تیر خالی نہیں جاتا تھا، انہوں نے ان کو تیروں پر رکھ لیا اس وجہ سے وہ ہٹ گئے اس کے بعد وہ رسول ﷲ کے پاس حاضر ہوئے اس وقت آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، جس کو آپ کے چچا کے بیٹے، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب ہانک رہے تھے، پس آپ اترے اور آپ نے ارحم الراحمین سے مدد مانگی اس کے بعد فرمایا أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ اور اصحاب کو صف بستہ کیا



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = شکست کے بعد امام کا سواری سے اتر کر باقی ماندہ ساتھیوں کی صف بندی کر کے اﷲسے مدد مانگنے کا بیان۔
جلد نمبر  2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر  189
ٹوٹل حدیث نمبر  2725


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment