Friday, March 25, 2011

Sahi Bukhari, Jild 2, Bil-lihaaz Jild Hadith no:424, Total Hadith no: 2960

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَقَلْتُ نَاقَتِي بِالْبَابِ فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَی يَا بَنِي تَمِيمٍ قَالُوا قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا مَرَّتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَی يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ قَالُوا قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالُوا جِئْنَاکَ نَسْأَلُکَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ کَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَکُنْ شَيْئٌ غَيْرُهُ وَکَانَ عَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ وَکَتَبَ فِي الذِّکْرِ کُلَّ شَيْئٍ وَخَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فَنَادَی مُنَادٍ ذَهَبَتْ نَاقَتُکَ يَا ابْنَ الْحُصَيْنِ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هِيَ يَقْطَعُ دُونَهَا السَّرَابُ فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ تَرَکْتُهَا وَرَوَی عِيسَی عَنْ رَقَبَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَأَخْبَرَنَا عَنْ بَدْئِ الْخَلْقِ حَتَّی دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنَازِلَهُمْ وَأَهْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ حَفِظَ ذَلِکَ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ

عمر بن حفص بن غیاث ان کے ولد اعمش جامع بن شداد صفوان بن محرز عمران بن حصین رضی ﷲ عنہما سے راویت کرتے ہیں کہ میں رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنی او نٹنی کو در وازہ پر باندھ کر حاضر ہو اتو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بنوتمیم کے کچھ لوگ آئے آپ نے فرمایابشارت قبول کرواے بنوتمیم! انہوں نے دو مرتبہ کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت تو دی ہے اب کچھ عطا بھی تو فرمائیے پھر یمن کے کچھ لوگ حاضر خدمت ہوئے تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اہل یمن بشارت قبول کرو کیونکہ نبی تمیم نے تو اسے رد کردیا ہے انہوں نے کہا یا رسول صلی ﷲ علیہ وسلم ہم نے قبول کیا ہم آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں اس امر (دین) کے بارے میں کچھ دریافت کرنے کیلئے حاضرہوئے تھے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (ابتد اء میں) ﷲ تعالی کاوجود تھا اور کوئی چیز موجود نہیں تھی اس کاعرش پانی پر تھا اور اس نے ہر ہونے ولی چیز کو لوح محفوظ میں لکھ لیا تھا اور اس نے زمین وآسمان کو پید افرمایا (حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے اتنی ہی بات سنی) کہ ایک منادی نے آواز دی کہ اے ابن حصین! تیری اونٹنی بھاگ گئی میں (اٹھ کر) چلا تو وہ اتنی دور چلی گئی تھی کہ سراب بیچ میں حائل ہوگیا بس خدا کی قسم! میں نے تمنا کی کہ میں اسے چھوڑ دیتا عیسیٰ رقبہ قیس بن مسلم طارق بن شہاب سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان ایک مقام پر کھڑے ہوئے اور آپ نے ابتدائے آفرینش کی بابت ہمیں بتلایا حتیٰ کہ (یہ بھی بتلایا کہ) جنتی اپنی منزلوں اور دوزخی اپنی جگہوں میں داخل ہو گئے اس بات کو یاد رکھا جس نے یاد رکھا اور بھول گیا جو بھول گیا



کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = مخلوقات کی ابتداء کا بیان
باب = اللہ تعالیٰ کے قول اور وہی ہے جو اول بار پیدا کرتا ہے پھر دوبارہ زندہ کرے گا کا بیان
جلد نمبر  2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر  424
ٹوٹل حدیث نمبر  2960


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment