حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَائَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا بَنِي تَمِيمٍ أَبْشِرُوا قَالُوا بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ فَجَائَهُ أَهْلُ الْيَمَنِ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْيَمَنِ اقْبَلُوا الْبُشْرَی إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ قَالُوا قَبِلْنَا فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ بَدْئَ الْخَلْقِ وَالْعَرْشِ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا عِمْرَانُ رَاحِلَتُکَ تَفَلَّتَتْ لَيْتَنِي لَمْ أَقُمْ
محمدبن کثیر سفیان جامع بن شداد صفوان بن محرز عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ بنو تمیم کی ایک جماعت رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئی آپ نے فرمایا اے بنو تمیم خوشخبری صلی ﷲ علیہ وسلم حاصل کرو انہوں نے جواب دیا کہ (اے رسول ﷲ) آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہمیں خوشخبری تو دیدی لہذا اب کچھ عطا فرمائیے تو حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا پھر اہل یمن آپ کی خدمت میں آئے آپ نے فرمایا اے اہل یمن بشارت کو قول کرو کیونکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں قبول ہے پھر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ابتدائے آفرنیش و عرش کے بارے میں بیان فرمانے لگے پھر ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اے عمران تمہاری سواری بھاگ گئی (عمران کہتے ہیں کہ) کاش میں اس کی یہ باتیں چھوڑ کر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی مجلس وعظ سے کھڑا نہ ہوتا
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = مخلوقات کی ابتداء کا بیان
باب = اللہ تعالیٰ کے قول اور وہی ہے جو اول بار پیدا کرتا ہے پھر دوبارہ زندہ کرے گا کا بیان
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 423
ٹوٹل حدیث نمبر 2959
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
محمدبن کثیر سفیان جامع بن شداد صفوان بن محرز عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ بنو تمیم کی ایک جماعت رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئی آپ نے فرمایا اے بنو تمیم خوشخبری صلی ﷲ علیہ وسلم حاصل کرو انہوں نے جواب دیا کہ (اے رسول ﷲ) آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ہمیں خوشخبری تو دیدی لہذا اب کچھ عطا فرمائیے تو حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا پھر اہل یمن آپ کی خدمت میں آئے آپ نے فرمایا اے اہل یمن بشارت کو قول کرو کیونکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں قبول ہے پھر آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ابتدائے آفرنیش و عرش کے بارے میں بیان فرمانے لگے پھر ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اے عمران تمہاری سواری بھاگ گئی (عمران کہتے ہیں کہ) کاش میں اس کی یہ باتیں چھوڑ کر آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی مجلس وعظ سے کھڑا نہ ہوتا
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = مخلوقات کی ابتداء کا بیان
باب = اللہ تعالیٰ کے قول اور وہی ہے جو اول بار پیدا کرتا ہے پھر دوبارہ زندہ کرے گا کا بیان
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 423
ٹوٹل حدیث نمبر 2959
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment