حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ وَزِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ قَالَ بَعَثَ عُمَرُ النَّاسَ فِي أَفْنَائِ الْأَمْصَارِ يُقَاتِلُونَ الْمُشْرِکِينَ فَأَسْلَمَ الْهُرْمُزَانُ فَقَالَ إِنِّي مُسْتَشِيرُکَ فِي مَغَازِيَّ هَذِهِ قَالَ نَعَمْ مَثَلُهَا وَمَثَلُ مَنْ فِيهَا مِنْ النَّاسِ مِنْ عَدُوِّ الْمُسْلِمِينَ مَثَلُ طَائِرٍ لَهُ رَأْسٌ وَلَهُ جَنَاحَانِ وَلَهُ رِجْلَانِ فَإِنْ کُسِرَ أَحَدُ الْجَنَاحَيْنِ نَهَضَتْ الرِّجْلَانِ بِجَنَاحٍ وَالرَّأْسُ فَإِنْ کُسِرَ الْجَنَاحُ الْآخَرُ نَهَضَتْ الرِّجْلَانِ وَالرَّأْسُ وَإِنْ شُدِخَ الرَّأْسُ ذَهَبَتْ الرِّجْلَانِ وَالْجَنَاحَانِ وَالرَّأْسُ فَالرَّأْسُ کِسْرَی وَالْجَنَاحُ قَيْصَرُ وَالْجَنَاحُ الْآخَرُ فَارِسُ فَمُرْ الْمُسْلِمِينَ فَلْيَنْفِرُوا إِلَی کِسْرَی وَقَالَ بَکْرٌ وَزِيَادٌ جَمِيعًا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ قَالَ فَنَدَبَنَا عُمَرُ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْنَا النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِأَرْضِ الْعَدُوِّ وَخَرَجَ عَلَيْنَا عَامِلُ کِسْرَی فِي أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَقَامَ تَرْجُمَانٌ فَقَالَ لِيُکَلِّمْنِي رَجُلٌ مِنْکُمْ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ سَلْ عَمَّا شِئْتَ قَالَ مَا أَنْتُمْ قَالَ نَحْنُ أُنَاسٌ مِنْ الْعَرَبِ کُنَّا فِي شَقَائٍ شَدِيدٍ وَبَلَائٍ شَدِيدٍ نَمَصُّ الْجِلْدَ وَالنَّوَی مِنْ الْجُوعِ وَنَلْبَسُ الْوَبَرَ وَالشَّعَرَ وَنَعْبُدُ الشَّجَرَ وَالْحَجَرَ فَبَيْنَا نَحْنُ کَذَلِکَ إِذْ بَعَثَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرَضِينَ تَعَالَی ذِکْرُهُ وَجَلَّتْ عَظَمَتُهُ إِلَيْنَا نَبِيًّا مِنْ أَنْفُسِنَا نَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ فَأَمَرَنَا نَبِيُّنَا رَسُولُ رَبِّنَا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُقَاتِلَکُمْ حَتَّی تَعْبُدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ أَوْ تُؤَدُّوا الْجِزْيَةَ وَأَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رِسَالَةِ رَبِّنَا أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنَّا صَارَ إِلَی الْجَنَّةِ فِي نَعِيمٍ لَمْ يَرَ مِثْلَهَا قَطُّ وَمَنْ بَقِيَ مِنَّا مَلَکَ رِقَابَکُمْ فَقَالَ النُّعْمَانُ رُبَّمَا أَشْهَدَکَ اللَّهُ مِثْلَهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنَدِّمْکَ وَلَمْ يُخْزِکَ وَلَکِنِّي شَهِدْتُ الْقِتَالَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ انْتَظَرَ حَتَّی تَهُبَّ الْأَرْوَاحُ وَتَحْضُرَ الصَّلَوَاتُ
فضل بن یعقوب عبد ﷲ بن جعفر معتمر بن سلیمان سعید بن عبید ﷲ ثقفی بکر بن عبد ﷲ المزنی و زیاد بن جبیر جبیر بن حیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے بڑے بڑے شہروں میں مشرکوں سے لڑنے کے لئے مسلمانوں کو روانہ کیا اور ہرمزان کے اسلام لانے کے بعد آپ نے اس سے کہا کہ ان لڑائیوں کی بابت میں تم سے مشورہ طلب کرنا چاہتا ہوں تو ہرمزان نے جواب دیا جی ہاں اس لڑائی کی مثال اور ان لوگوں کی مثال جو اس میدان میں مسلمانوں کے دشمن ہیں بالکل ایک پرندہ کی طرح ہے کہ جس کا ایک سر دو بازو اور دو پیر ہوں اگر اس کا ایک بازو توڑ دیا جائے تو وہ دونوں پیروں ایک بازو اور ایک سر پر کھڑا رہے گا اور اگر دوسرا بازو بھی توڑ دیا جائے تو دونوں پاؤں اور ایک سر پرکھڑا رہے گا اور اگر اس کا سر چکنا چور کردیا جائے تو اس کے دونوں پیر اور دونوں بازو اور سر سب بے کار ہو جائیں گے بحالت موجودہ کسریٰ سر ہے فارس ایک بازو اور قیصر دوسرا بازو ہے- لہذا مناسب یہ ہے کہ آپ مسلمانوں کو کسری کی طرف جانے کا حکم صادر فرمائیں بکر و زیاد دونوں نے جبیر بن حیہ کے ذریعہ بیان کیا ہے کہ پھر فاروق اعظم نے ہم کو طلب فرما کر نعمان بن مقرن کو ہمارا امیر فوج مقرر کیا اور ہم کو روانہ کردیا جب ہم لوگ دشمن کی مملکت میں وارد ہوئے تو کسری کا فوجی گورنر چالیس ہزار کا لشکر جرار لے کر ہمارے مد مقابل ہوا اس کے ترجمان نے کہا کہ مسلمانوں میں سے کوئی آدمی مجھ سے گفتگو کرے تو حضرت مغیرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا پوچھ جو تیرا جی چاہتا ہے اس ترجمان نے کہا کہ تم کون ہو؟ حضرت مغیرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا ہم عرب کے باشندے ہیں ہم لوگ سخت بد بختی اور سخت مصیبت میں گرفتار تھے بھوک کی وجہ سے ہم لوگ چمڑہ اور چھوہارے کی گٹھلیاں چوسا کرتے تھے چمڑے اور بال کی پوشاک پہنتے تھے درختوں اور پتھروں کی پوجا کرتے تھے اس وقت جب کہ ہماری یہ درگت تھی تو آسمانوں اور زمینوں کے مالک نے جس کا بیان بہت اونچا ہے جس کی عظمت کی بلندی کا کنارہ نہیں ہے اس نے ہماری قوم میں سے ایک نبی ہمارے لئے مبعوث فرمایا جن کے ماں باپ کو بھی ہم جانتے ہیں چناچہ ہم کو ہمارے نبی اور ﷲ کے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ہم تم سے اس وقت تک جنگ کرتے رہیں جب تک کہ تم ایک خدا کی پرستش شروع نہ کردو یا جزیہ دینا قبول کرلو نیز سرور عالم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ﷲ کی جانب سے ہم کو یہ اطلاع بھی دی ہے کہ تم مسلمانوں میں سے جو کوئی مارا جائے تو وہ سیدھا آرام دہ جنت میں داخل ہوجائے گا جس کی کوئی مثال آج تک بھی نہیں دیکھی گئی اور ہم میں سے جو کوئی زندہ رہے گا تو وہ تمہاری کر دنوں کا مالک ہوگا (مغیرہ کا ارادہ ہوا کہ فورا ہی لڑائی شروع کردی جائے) لیکن نعمان بن ثابت امیر فوج نے کہا کہ اے مغیرہ! تم بار ہار رسا لتماب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک جنگ رہے ہو جہاں تم نے کوئی ندامت ورسوائی نہیں اٹھائی ہے اور میں اکثر مرتبہ رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لڑائیوں میں گیاہوں اور قاعدہ جنگ سے واقف ہوں جب سرورعالم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم دن کے شروع حصہ میں جنگ نہیں کرتے تھے تو نماز پڑھنے کے بعد مناسب ہواؤں کے چلنے کا انتظار فرمایا کرتے تھے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = ذمی کا فروں سے جزیہ لینے اور قول و قرار کرنے کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 397
ٹوٹل حدیث نمبر 2933
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
فضل بن یعقوب عبد ﷲ بن جعفر معتمر بن سلیمان سعید بن عبید ﷲ ثقفی بکر بن عبد ﷲ المزنی و زیاد بن جبیر جبیر بن حیہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے بڑے بڑے شہروں میں مشرکوں سے لڑنے کے لئے مسلمانوں کو روانہ کیا اور ہرمزان کے اسلام لانے کے بعد آپ نے اس سے کہا کہ ان لڑائیوں کی بابت میں تم سے مشورہ طلب کرنا چاہتا ہوں تو ہرمزان نے جواب دیا جی ہاں اس لڑائی کی مثال اور ان لوگوں کی مثال جو اس میدان میں مسلمانوں کے دشمن ہیں بالکل ایک پرندہ کی طرح ہے کہ جس کا ایک سر دو بازو اور دو پیر ہوں اگر اس کا ایک بازو توڑ دیا جائے تو وہ دونوں پیروں ایک بازو اور ایک سر پر کھڑا رہے گا اور اگر دوسرا بازو بھی توڑ دیا جائے تو دونوں پاؤں اور ایک سر پرکھڑا رہے گا اور اگر اس کا سر چکنا چور کردیا جائے تو اس کے دونوں پیر اور دونوں بازو اور سر سب بے کار ہو جائیں گے بحالت موجودہ کسریٰ سر ہے فارس ایک بازو اور قیصر دوسرا بازو ہے- لہذا مناسب یہ ہے کہ آپ مسلمانوں کو کسری کی طرف جانے کا حکم صادر فرمائیں بکر و زیاد دونوں نے جبیر بن حیہ کے ذریعہ بیان کیا ہے کہ پھر فاروق اعظم نے ہم کو طلب فرما کر نعمان بن مقرن کو ہمارا امیر فوج مقرر کیا اور ہم کو روانہ کردیا جب ہم لوگ دشمن کی مملکت میں وارد ہوئے تو کسری کا فوجی گورنر چالیس ہزار کا لشکر جرار لے کر ہمارے مد مقابل ہوا اس کے ترجمان نے کہا کہ مسلمانوں میں سے کوئی آدمی مجھ سے گفتگو کرے تو حضرت مغیرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا پوچھ جو تیرا جی چاہتا ہے اس ترجمان نے کہا کہ تم کون ہو؟ حضرت مغیرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا ہم عرب کے باشندے ہیں ہم لوگ سخت بد بختی اور سخت مصیبت میں گرفتار تھے بھوک کی وجہ سے ہم لوگ چمڑہ اور چھوہارے کی گٹھلیاں چوسا کرتے تھے چمڑے اور بال کی پوشاک پہنتے تھے درختوں اور پتھروں کی پوجا کرتے تھے اس وقت جب کہ ہماری یہ درگت تھی تو آسمانوں اور زمینوں کے مالک نے جس کا بیان بہت اونچا ہے جس کی عظمت کی بلندی کا کنارہ نہیں ہے اس نے ہماری قوم میں سے ایک نبی ہمارے لئے مبعوث فرمایا جن کے ماں باپ کو بھی ہم جانتے ہیں چناچہ ہم کو ہمارے نبی اور ﷲ کے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ ہم تم سے اس وقت تک جنگ کرتے رہیں جب تک کہ تم ایک خدا کی پرستش شروع نہ کردو یا جزیہ دینا قبول کرلو نیز سرور عالم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ﷲ کی جانب سے ہم کو یہ اطلاع بھی دی ہے کہ تم مسلمانوں میں سے جو کوئی مارا جائے تو وہ سیدھا آرام دہ جنت میں داخل ہوجائے گا جس کی کوئی مثال آج تک بھی نہیں دیکھی گئی اور ہم میں سے جو کوئی زندہ رہے گا تو وہ تمہاری کر دنوں کا مالک ہوگا (مغیرہ کا ارادہ ہوا کہ فورا ہی لڑائی شروع کردی جائے) لیکن نعمان بن ثابت امیر فوج نے کہا کہ اے مغیرہ! تم بار ہار رسا لتماب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک جنگ رہے ہو جہاں تم نے کوئی ندامت ورسوائی نہیں اٹھائی ہے اور میں اکثر مرتبہ رسالت مآب صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لڑائیوں میں گیاہوں اور قاعدہ جنگ سے واقف ہوں جب سرورعالم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم دن کے شروع حصہ میں جنگ نہیں کرتے تھے تو نماز پڑھنے کے بعد مناسب ہواؤں کے چلنے کا انتظار فرمایا کرتے تھے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = ذمی کا فروں سے جزیہ لینے اور قول و قرار کرنے کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 397
ٹوٹل حدیث نمبر 2933
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment