حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ وَالْقَطِيفَةِ وَالْخَمِيصَةِ إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ وَإِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ لَمْ يَرْفَعْهُ إِسْرَائِيلُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ وَزَادَنَا عَمْرٌو قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ وَإِنْ لَمْ يُعْطَ سَخِطَ تَعِسَ وَانْتَکَسَ وَإِذَا شِيکَ فَلَا انْتَقَشَ طُوبَی لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَشْعَثَ رَأْسُهُ مُغْبَرَّةٍ قَدَمَاهُ إِنْ کَانَ فِي الْحِرَاسَةِ کَانَ فِي الْحِرَاسَةِ وَإِنْ کَانَ فِي السَّاقَةِ کَانَ فِي السَّاقَةِ إِنْ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْ وَقَالَ فَتَعْسًا کَأَنَّهُ يَقُولُ فَأَتْعَسَهُمْ اللَّهُ طُوبَی فُعْلَی مِنْ کُلِّ شَيْئٍ طَيِّبٍ وَهِيَ يَائٌ حُوِّلَتْ إِلَی الْوَاوِ وَهِيَ مِنْ يَطِيبُ
یحییٰ بن یوسف، ابوبکر، ابوحصین، ابوصالح، ابوہریرہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا دینار اور درہم کا بندہ اور قطیفہ اور خمیصہ کا بندہ ہلاک ہوجائے (یہ دونوں چادریں ہیں) اسے اگر دیا جائے تو مسرور ہوتا ہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناخوش ہوجاتا ہے ہلا ک ہوجائے اور سرنگوں ہو جائے، جب اس کو کانٹا چبھے، تو نہ نکلے، خوشخبری ہے اس بندے کیلئے جو اپنے گھوڑے کی لگام ﷲ کی راہ میں پکڑے ہوئے ہو، اس کے سر کے بال پرآگندہ اور پاؤں گرد آلود ہوں اگر وہ امام کی جانب سے پاسبانی پر مقرر ہو، تو حفاظت میں پوری تندہی سے لگا رہے اور اگر فوج کے پیچھے حفاظت کیلئے لگا دیا جائے، تو لشکر کے پیچھے لگا رہے، اگر اندر آنے کی اجازت چاہے تو اجازت نہ ملے اور اگر وہ کسی کی سفارش کرے، تو اس کی سفارش نہ مانی جائے، ابوعبد ﷲ نے کہا کہ اسرائیل اور محمد بن حجادہ نے ابوحصین سے اس کو مرفوعا روایت نہیں کیا، اور کہا کہ تعسا کے معنی ہیں کہ ﷲ نے ان کو ہلاک کردیا، طوبی فعلی کے وزن پر ہے یعنی ہرپاکیزہ چیز، اس کی اصل یاء ہے جو واو سے بدل گئی اور یہ یطیب سے مشتق ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = میدان جہاد میں نگرانی کرنے کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 149
ٹوٹل حدیث نمبر 2685
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
یحییٰ بن یوسف، ابوبکر، ابوحصین، ابوصالح، ابوہریرہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا دینار اور درہم کا بندہ اور قطیفہ اور خمیصہ کا بندہ ہلاک ہوجائے (یہ دونوں چادریں ہیں) اسے اگر دیا جائے تو مسرور ہوتا ہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناخوش ہوجاتا ہے ہلا ک ہوجائے اور سرنگوں ہو جائے، جب اس کو کانٹا چبھے، تو نہ نکلے، خوشخبری ہے اس بندے کیلئے جو اپنے گھوڑے کی لگام ﷲ کی راہ میں پکڑے ہوئے ہو، اس کے سر کے بال پرآگندہ اور پاؤں گرد آلود ہوں اگر وہ امام کی جانب سے پاسبانی پر مقرر ہو، تو حفاظت میں پوری تندہی سے لگا رہے اور اگر فوج کے پیچھے حفاظت کیلئے لگا دیا جائے، تو لشکر کے پیچھے لگا رہے، اگر اندر آنے کی اجازت چاہے تو اجازت نہ ملے اور اگر وہ کسی کی سفارش کرے، تو اس کی سفارش نہ مانی جائے، ابوعبد ﷲ نے کہا کہ اسرائیل اور محمد بن حجادہ نے ابوحصین سے اس کو مرفوعا روایت نہیں کیا، اور کہا کہ تعسا کے معنی ہیں کہ ﷲ نے ان کو ہلاک کردیا، طوبی فعلی کے وزن پر ہے یعنی ہرپاکیزہ چیز، اس کی اصل یاء ہے جو واو سے بدل گئی اور یہ یطیب سے مشتق ہے
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = میدان جہاد میں نگرانی کرنے کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 149
ٹوٹل حدیث نمبر 2685
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment