حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکْثَرُنَا ظِلًّا الَّذِي يَسْتَظِلُّ بِکِسَائِهِ وَأَمَّا الَّذِينَ صَامُوا فَلَمْ يَعْمَلُوا شَيْئًا وَأَمَّا الَّذِينَ أَفْطَرُوا فَبَعَثُوا الرِّکَابَ وَامْتَهَنُوا وَعَالَجُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ
سیلمان بن داؤ، ابوالربیع، اسمعیل بن زکریا، عاصم، مورق عجلی، انس سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے تو ہم میں سے سب سے زیادہ سایہ اس شخص پر تھا، جو اپنی چادر سے سایہ کئے ہوئے تھا (بعض آدمی سورج سے اپنے ہاتھوں کی آڑ کرلیتے تھے) بعض آدمیوں کا روزہ تھا، بعض کا نہ تھا جنہوں نے روزہ رکھا تھا، انہوں نے کچھ کام نہیں کیا، اور جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تھا انہوں نے اونٹوں کی اٹھا یا، اور ان پر پانی بھر بھر کے لائے، غرض ہر طرح کی خدمت کی اور کام کیا، آپ نے فرمایا کہ آج تو روزہ نہ رکھنے والے (سب) ثواب (لوٹ) لے گئے،
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = میدان جہاد میں خدمت کی فضلیت کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 152
ٹوٹل حدیث نمبر 2688
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
سیلمان بن داؤ، ابوالربیع، اسمعیل بن زکریا، عاصم، مورق عجلی، انس سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے تو ہم میں سے سب سے زیادہ سایہ اس شخص پر تھا، جو اپنی چادر سے سایہ کئے ہوئے تھا (بعض آدمی سورج سے اپنے ہاتھوں کی آڑ کرلیتے تھے) بعض آدمیوں کا روزہ تھا، بعض کا نہ تھا جنہوں نے روزہ رکھا تھا، انہوں نے کچھ کام نہیں کیا، اور جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تھا انہوں نے اونٹوں کی اٹھا یا، اور ان پر پانی بھر بھر کے لائے، غرض ہر طرح کی خدمت کی اور کام کیا، آپ نے فرمایا کہ آج تو روزہ نہ رکھنے والے (سب) ثواب (لوٹ) لے گئے،
کتاب حدیث = صحیح بخاری
کتاب = جہاداورسیرت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم
باب = میدان جہاد میں خدمت کی فضلیت کا بیان۔
جلد نمبر 2
جلد کے لہاظ سے حدیث نمبر 152
ٹوٹل حدیث نمبر 2688
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment