کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
قرشی عدوی ابوحفص حضرت عمر بن خطاب کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3420
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ وُضِعَ عُمَرُ عَلَی سَرِيرِهِ فَتَکَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ آخِذٌ مَنْکِبِي فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَرَحَّمَ عَلَی عُمَرَ وَقَالَ مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَی اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْکَ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ کُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَکَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْکَ وَحَسِبْتُ إِنِّي کُنْتُ کَثِيرًا أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ
عبدان عبد ﷲ عمر بن سعید ابن ابی ملیکہ حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اپنے تابوت پر رکھے گئے تو لوگوں نے ان کو گھیر لیا وہ لوگ دعا مانگتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے تھے اس سے بیشتر کہ جنازہ اٹھایا جائے میں بھی ان ہی لوگوں میں تھا کہ یکایک ایک شخص نے میرا شانہ پکڑ لیا اور وہ حضرت علی تھے پھر انہوں نے حضرت عمر کے لئے دعائے رحمت کی اور کہا اے عمر! تم نے اپنے بعد کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑا جو عمل کے اعتبار سے مجھے تم جیسا محبوب ہوتا اور بخدا میں خیال کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ تم کو تمہارے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا اور میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے اکثر بیشتر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میں تھا اور ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ و عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور میں گیا اور ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ و عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور میں داخل ہوا اور ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ و عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور میں نکلا اور ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ و عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ (یعنی آپ اپنے ہر کام و فعل میں ان کو شریک رکھتے تھے) -
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment