کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
قرشی عدوی ابوحفص حضرت عمر بن خطاب کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر
3426
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ عُرِضُوا عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ فَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِکَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ اجْتَرَّهُ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الدِّينَ
یحییٰ بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب ابوامامہ حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سو رہا تھا دیکھتا کیا ہوں لوگوں کو میرے سامنے لایا جا رہا ہے (اور مجھے دکھایا جا رہا ہے) یہ سب لوگ کرتے پہنے ہوئے تھے جن میں بعض کے کرتے تو سینے تک پہنچتے تھے اور بعض کے اس سے نیچے پھر میرے سامنے عمر بن خطاب کو لایا گیا جو اتنا لمبا کرتے پہنے ہوئے تھے کہ زمین پر گھسیٹتے ہوئے چلتے تھے لوگوں (یعنی صحابہ) نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ہے! فرمایا دین (اسلام)
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment