کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
انبیاء علیہم السلام کا بیان
باب
یزفون یعنی تیز چلنے کا بیان
حدیث نمبر
3124
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَکَثِيرِ بْنِ کَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَی الْآخَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَوَّلَ مَا اتَّخَذَ النِّسَائُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِيلَ اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لَتُعَفِّيَ أَثَرَهَا عَلَی سَارَةَ ثُمَّ جَائَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ وَبِابْنِهَا إِسْمَاعِيلَ وَهِيَ تُرْضِعُهُ حَتَّی وَضَعَهُمَا عِنْدَ الْبَيْتِ عِنْدَ دَوْحَةٍ فَوْقَ زَمْزَمَ فِي أَعْلَی الْمَسْجِدِ وَلَيْسَ بِمَکَّةَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ وَلَيْسَ بِهَا مَائٌ فَوَضَعَهُمَا هُنَالِکَ وَوَضَعَ عِنْدَهُمَا جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ وَسِقَائً فِيهِ مَائٌ ثُمَّ قَفَّی إِبْرَاهِيمُ مُنْطَلِقًا فَتَبِعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ فَقَالَتْ يَا إِبْرَاهِيمُ أَيْنَ تَذْهَبُ وَتَتْرُکُنَا بِهَذَا الْوَادِي الَّذِي لَيْسَ فِيهِ إِنْسٌ وَلَا شَيْئٌ فَقَالَتْ لَهُ ذَلِکَ مِرَارًا وَجَعَلَ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ لَهُ أَاللَّهُ الَّذِي أَمَرَکَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَتْ إِذَنْ لَا يُضَيِّعُنَا ثُمَّ رَجَعَتْ فَانْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ حَتَّی إِذَا کَانَ عِنْدَ الثَّنِيَّةِ حَيْثُ لَا يَرَوْنَهُ اسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْبَيْتَ ثُمَّ دَعَا بِهَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ رَبِّ إِنِّي أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِکَ الْمُحَرَّمِ حَتَّی بَلَغَ يَشْکُرُونَ وَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تُرْضِعُ إِسْمَاعِيلَ وَتَشْرَبُ مِنْ ذَلِکَ الْمَائِ حَتَّی إِذَا نَفِدَ مَا فِي السِّقَائِ عَطِشَتْ وَعَطِشَ ابْنُهَا وَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتَلَوَّی أَوْ قَالَ يَتَلَبَّطُ فَانْطَلَقَتْ کَرَاهِيَةَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْهِ فَوَجَدَتْ الصَّفَا أَقْرَبَ جَبَلٍ فِي الْأَرْضِ يَلِيهَا فَقَامَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْ الْوَادِيَ تَنْظُرُ هَلْ تَرَی أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَهَبَطَتْ مِنْ الصَّفَا حَتَّی إِذَا بَلَغَتْ الْوَادِيَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا ثُمَّ سَعَتْ سَعْيَ الْإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ حَتَّی جَاوَزَتْ الْوَادِيَ ثُمَّ أَتَتْ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ عَلَيْهَا وَنَظَرَتْ هَلْ تَرَی أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَفَعَلَتْ ذَلِکَ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَلِکَ سَعْيُ النَّاسِ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا أَشْرَفَتْ عَلَی الْمَرْوَةِ سَمِعَتْ صَوْتًا فَقَالَتْ صَهٍ تُرِيدُ نَفْسَهَا ثُمَّ تَسَمَّعَتْ فَسَمِعَتْ أَيْضًا فَقَالَتْ قَدْ أَسْمَعْتَ إِنْ کَانَ عِنْدَکَ غِوَاثٌ فَإِذَا هِيَ بِالْمَلَکِ عِنْدَ مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَبَحَثَ بِعَقِبِهِ أَوْ قَالَ بِجَنَاحِهِ حَتَّی ظَهَرَ الْمَائُ فَجَعَلَتْ تُحَوِّضُهُ وَتَقُولُ بِيَدِهَا هَکَذَا وَجَعَلَتْ تَغْرِفُ مِنْ الْمَائِ فِي سِقَائِهَا وَهُوَ يَفُورُ بَعْدَ مَا تَغْرِفُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَکَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنْ الْمَائِ لَکَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا قَالَ فَشَرِبَتْ وَأَرْضَعَتْ وَلَدَهَا فَقَالَ لَهَا الْمَلَکُ لَا تَخَافُوا الضَّيْعَةَ فَإِنَّ هَا هُنَا بَيْتَ اللَّهِ يَبْنِي هَذَا الْغُلَامُ وَأَبُوهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَهْلَهُ وَکَانَ الْبَيْتُ مُرْتَفِعًا مِنْ الْأَرْضِ کَالرَّابِيَةِ تَأْتِيهِ السُّيُولُ فَتَأْخُذُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ فَکَانَتْ کَذَلِکَ حَتَّی مَرَّتْ بِهِمْ رُفْقَةٌ مِنْ جُرْهُمَ أَوْ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ جُرْهُمَ مُقْبِلِينَ مِنْ طَرِيقِ کَدَائٍ فَنَزَلُوا فِي أَسْفَلِ مَکَّةَ فَرَأَوْا طَائِرًا عَائِفًا فَقَالُوا إِنَّ هَذَا الطَّائِرَ لَيَدُورُ عَلَی مَائٍ لَعَهْدُنَا بِهَذَا الْوَادِي وَمَا فِيهِ مَائٌ فَأَرْسَلُوا جَرِيًّا أَوْ جَرِيَّيْنِ فَإِذَا هُمْ بِالْمَائِ فَرَجَعُوا فَأَخْبَرُوهُمْ بِالْمَائِ فَأَقْبَلُوا قَالَ وَأُمُّ إِسْمَاعِيلَ عِنْدَ الْمَائِ فَقَالُوا أَتَأْذَنِينَ لَنَا أَنْ نَنْزِلَ عِنْدَکِ فَقَالَتْ نَعَمْ وَلَکِنْ لَا حَقَّ لَکُمْ فِي الْمَائِ قَالُوا نَعَمْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْفَی ذَلِکَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ وَهِيَ تُحِبُّ الْإِنْسَ فَنَزَلُوا وَأَرْسَلُوا إِلَی أَهْلِيهِمْ فَنَزَلُوا مَعَهُمْ حَتَّی إِذَا کَانَ بِهَا أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْهُمْ وَشَبَّ الْغُلَامُ وَتَعَلَّمَ الْعَرَبِيَّةَ مِنْهُمْ وَأَنْفَسَهُمْ وَأَعْجَبَهُمْ حِينَ شَبَّ فَلَمَّا أَدْرَکَ زَوَّجُوهُ امْرَأَةً مِنْهُمْ وَمَاتَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ فَجَائَ إِبْرَاهِيمُ بَعْدَمَا تَزَوَّجَ إِسْمَاعِيلُ يُطَالِعُ تَرِکَتَهُ فَلَمْ يَجِدْ إِسْمَاعِيلَ فَسَأَلَ امْرَأَتَهُ عَنْهُ فَقَالَتْ خَرَجَ يَبْتَغِي لَنَا ثُمَّ سَأَلَهَا عَنْ عَيْشِهِمْ وَهَيْئَتِهِمْ فَقَالَتْ نَحْنُ بِشَرٍّ نَحْنُ فِي ضِيقٍ وَشِدَّةٍ فَشَکَتْ إِلَيْهِ قَالَ فَإِذَا جَائَ زَوْجُکِ فَاقْرَئِي عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقُولِي لَهُ يُغَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِهِ فَلَمَّا جَائَ إِسْمَاعِيلُ کَأَنَّهُ آنَسَ شَيْئًا فَقَالَ هَلْ جَائَکُمْ مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ نَعَمْ جَائَنَا شَيْخٌ کَذَا وَکَذَا فَسَأَلَنَا عَنْکَ فَأَخْبَرْتُهُ وَسَأَلَنِي کَيْفَ عَيْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا فِي جَهْدٍ وَشِدَّةٍ قَالَ فَهَلْ أَوْصَاکِ بِشَيْئٍ قَالَتْ نَعَمْ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْکَ السَّلَامَ وَيَقُولُ غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِکَ قَالَ ذَاکِ أَبِي وَقَدْ أَمَرَنِي أَنْ أُفَارِقَکِ الْحَقِي بِأَهْلِکِ فَطَلَّقَهَا وَتَزَوَّجَ مِنْهُمْ أُخْرَی فَلَبِثَ عَنْهُمْ إِبْرَاهِيمُ مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ أَتَاهُمْ بَعْدُ فَلَمْ يَجِدْهُ فَدَخَلَ عَلَی امْرَأَتِهِ فَسَأَلَهَا عَنْهُ فَقَالَتْ خَرَجَ يَبْتَغِي لَنَا قَالَ کَيْفَ أَنْتُمْ وَسَأَلَهَا عَنْ عَيْشِهِمْ وَهَيْئَتِهِمْ فَقَالَتْ نَحْنُ بِخَيْرٍ وَسَعَةٍ وَأَثْنَتْ عَلَی اللَّهِ فَقَالَ مَا طَعَامُکُمْ قَالَتْ اللَّحْمُ قَالَ فَمَا شَرَابُکُمْ قَالَتْ الْمَائُ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمْ فِي اللَّحْمِ وَالْمَائِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَکُنْ لَهُمْ يَوْمَئِذٍ حَبٌّ وَلَوْ کَانَ لَهُمْ دَعَا لَهُمْ فِيهِ قَالَ فَهُمَا لَا يَخْلُو عَلَيْهِمَا أَحَدٌ بِغَيْرِ مَکَّةَ إِلَّا لَمْ يُوَافِقَاهُ قَالَ فَإِذَا جَائَ زَوْجُکِ فَاقْرَئِي عَلَيْهِ السَّلَامَ وَمُرِيهِ يُثْبِتُ عَتَبَةَ بَابِهِ فَلَمَّا جَائَ إِسْمَاعِيلُ قَالَ هَلْ أَتَاکُمْ مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ نَعَمْ أَتَانَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ وَأَثْنَتْ عَلَيْهِ فَسَأَلَنِي عَنْکَ فَأَخْبَرْتُهُ فَسَأَلَنِي کَيْفَ عَيْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا بِخَيْرٍ قَالَ فَأَوْصَاکِ بِشَيْئٍ قَالَتْ نَعَمْ هُوَ يَقْرَأُ عَلَيْکَ السَّلَامَ وَيَأْمُرُکَ أَنْ تُثْبِتَ عَتَبَةَ بَابِکَ قَالَ ذَاکِ أَبِي وَأَنْتِ الْعَتَبَةُ أَمَرَنِي أَنْ أُمْسِکَکِ ثُمَّ لَبِثَ عَنْهُمْ مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ جَائَ بَعْدَ ذَلِکَ وَإِسْمَاعِيلُ يَبْرِي نَبْلًا لَهُ تَحْتَ دَوْحَةٍ قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ فَلَمَّا رَآهُ قَامَ إِلَيْهِ فَصَنَعَا کَمَا يَصْنَعُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ وَالْوَلَدُ بِالْوَالِدِ ثُمَّ قَالَ يَا إِسْمَاعِيلُ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِأَمْرٍ قَالَ فَاصْنَعْ مَا أَمَرَکَ رَبُّکَ قَالَ وَتُعِينُنِي قَالَ وَأُعِينُکَ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَبْنِيَ هَا هُنَا بَيْتًا وَأَشَارَ إِلَی أَکَمَةٍ مُرْتَفِعَةٍ عَلَی مَا حَوْلَهَا قَالَ فَعِنْدَ ذَلِکَ رَفَعَا الْقَوَاعِدَ مِنْ الْبَيْتِ فَجَعَلَ إِسْمَاعِيلُ يَأْتِي بِالْحِجَارَةِ وَإِبْرَاهِيمُ يَبْنِي حَتَّی إِذَا ارْتَفَعَ الْبِنَائُ جَائَ بِهَذَا الْحَجَرِ فَوَضَعَهُ لَهُ فَقَامَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبْنِي وَإِسْمَاعِيلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ وَهُمَا يَقُولَانِ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ قَالَ فَجَعَلَا يَبْنِيَانِ حَتَّی يَدُورَا حَوْلَ الْبَيْتِ وَهُمَا يَقُولَانِ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
عبد ﷲ بن محمد عبدالرزاق معمر ایوب سختیانی کثیر بن کثیر بن مطلب بن ابووداعہ ایک دوسرے پر کچھ زیادتی بیان کرتا ہے سعید بن جبیر ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عورتوں نے سبے سے پہلے ازار بند بنانا اسمعیل کی ماں سے سیکھا انہوں نے ازار بند بنایا تاکہ اپنے نشانات کو سارہ سے چھپائیں پھر انہیں اور ان کے لڑکے اسمعیل کو ابراہیم لے کر آئے اور وہ انہیں دودھ پلاتی تھیں تو ان دونوں کو مسجد کے اوپری حصہ میں زمزم کے پاس کعبہ کے قریب ایک درخت کے پاس بٹھا دیا اور اس وقت مکہ میں نہ تو آدمی تھا نہ پانی ابراہیم نے انہیں وہاں بٹھا دیا اور ان کے پاس ایک چمڑے کے تھیلے میں کھجوریں اور مشکیزہ میں پانی رکھ دیا اس کے بعد ابراہیم لوٹ کر چلے تو اسمعیل کی والدہ نے ان کے پیچھے دوڑ کر کہا اے ابراہیم کہا جا رہے ہو اور ہمیں ایسے جنگل میں جہاں نہ کوئی آدمی ہے نہ اور کچھ (کس کے سہارے چھوڑے جا رہے ہو؟) اسمعیل کی والدہ نے یہ چند مرتبہ کہا مگر ابراہیم نے ان کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا اسمعیل کی والدہ نے کہا کیا ﷲ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! ہاجرہ نے کہا تو اب ﷲ بھی ہم کو برباد نہیں کرے گا پھر وہ واپس چلی آئیں اور ابرہیم چلے گئے حتیٰ کہ وہ ثنیہ کے پاس پہنچے، جہاں سے وہ لوگ انہیں دیکھ نہ سکتے تھے، تو انہوں نے اپنا منہ کعبہ کی طرف کر کے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی کہ( اے ہمارے رب میں اپنی اولاد کو آپ کے معظم گھر کے قریب ایک (کفدست) میدان میں جو زراعت کے قابل نہیں آباد کرتا ہوں) اور اسمٰعیل کی والدہ انہیں دودھ پلاتی تھیں اور اس مشکیزہ کا پانی پیتی تھیں حتی کہ جب وہ پانی ختم ہو گیا تو انہیں اور ان کے بچہ کو (سخت) پیاس لگی وہ اس بچہ کو دیکھنے لگیں کہ وہ مارے پیاس کے تڑپ رہا ہے یا فرمایا کہ ایڑیاں رگڑ رہا ہے وہ اس منظر کو دیکھنے کی تاب نہ لا کر چلیں اور انہوں نے اپنے قریب جو اس جگہ کے متصل تھا کوہ صفا کو دیکھا پس وہ اس پر چڑھ کر کھڑی ہوئیں اور جنگل کی طرف منہ کرکے دیکھنے لگیں کہ کوئی نظر آتا ہے یا نہیں؟ تو ان کو کوئی نظر نہ آیا (جس سے پانی مانگیں) پھر وہ صفا سے اتریں جب وہ نشیب میں پہنچیں تو اپنا دامن اٹھا کے ایسے دوڑیں جیسے کوئی سخت مصیب زدہ آدمی دوڑتا ہے حتیٰ کہ اس نشیب سے گزر گئیں پھر وہ کوہ مروہ پر آ کر کھڑی ہوئیں اور ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی نظر آتا ہے یا نہیں تو انہیں کوئی نظر نہ آیا اسی طرح انہوں نے سات مرتبہ کیا ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے کہا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسی لئے لوگ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں جب وہ آخری دفعہ کوہ مروہ پر چڑھیں تو انہوں نے ایک آواز سنی خود ہی کہنے لگیں ذرا ٹھہر کر سننا چاہئے تو انہوں نے کان لگایا تو پھر بھی آواز سنی خود ہی کہنے لگیں (اے شخص) تو نے آواز تو سنا دی کاش کہ تیرے پاس فریاد رسی بھی ہو، یکایک ایک فرشتہ کو مقام زمزم میں دیکھا اس فرشتہ نے اپنی ایڑی ماری یا فرمایا کہ اپنا پر مارا حتیٰ کہ پانی نکل آیا ہاجرہ اسے حوض کی شکل میں بنا کر روکنے لگیں اور ادھر ادھر کرنے لگیں اور چلو بھر بھر کے اپنی مشک میں ڈالنے لگیں ان کے چلو بھرنے کے بعد پانی زمین سے ابلنے لگا- ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ﷲ اسمٰعیل کی والدہ پر رحم فرمائے اگر وہ زمزم کو (روکتی نہیں بلکہ) چھوڑ دیتیں یا فرمایا چلو بھر بھر کے نہ ڈالتیں تو زمزم ایک جاری رہنے والا چشمہ ہوتا پھر فرمایا کہ انہوں نے پانی پیا اور بچہ کو پلایا پھر ان سے فرشتہ نے کہا کہ تم اپنی ہلاکت کا اندیشہ نہ کرو کیونکہ یہاں بیت ﷲ ہے جسے یہ لڑکا اور اس کے والد تعمیر کریں گے اور ﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہلاک و برباد نہیں کرتا (اس وقت) بیت ﷲ زمین سے ٹیلہ کی طرح اونچا تھا سیلاب آتے تھے تو اس کے دائیں بائیں کٹ جاتے تھے ہاجرہ اسی طرح رہتی رہیں یہاں تک کہ چند لوگ قبیلہ بنو جرہم کے ان کی طرف سے گزرے یا یہ فرمایا کہ بنو جرہم کے کچھ لوگ کدا کے راستہ سے لوٹے ہوئے آر ہے تھے تو وہ مکہ نشیب میں اترے انہوں نے کچھ پرندوں کو چکر لگاتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا بیشک یہ پرندے پانی پر چکر لگا رہے ہیں (حالانکہ) ہمارا زمانہ اس وادی میں گزرا تو اس میں پانی نہ تھا انہوں نے ایک یا دو آدمیوں کو بھیجا تو انہوں نے پانی کودیکھ لیا، واپس آکر انہوں نے سب کو پانی ملنے کی اطلاع دی وہ سب لوگ ادھر آنے لگے کہا کہ اسمٰعیل کی والدہ پانی کے پاس بیٹھی تھیں تو ان لوگوں نے کہا کیا تم اجازت دیتی ہو کہ ہم تمہارے پاس قیام کریں انہوں نے کہا اجازت ہے مگر پانی پر کوئی حق نہ ہو گا انہوں نے شرط منظور کر لی ابن عباس رضی ﷲ عنہ نے کہا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسمٰعیل کی والدہ نے اسے غنیمت سمجھا وہ انسانوں سے انس رکھتی تھیں تو وہ لوگ مقیم ہو گئے اور اپنے اہل و عیال کو بھی پیغام بھیج کر وہاں بلا لیا انہوں نے بھی وہیں قیام کیا حتیٰ کہ ان کے پاس چند خاندان آباد ہو گئے اور اب اسمٰعیل بچہ سے بڑے ہو گئے اور انہوں نے بنوجرہم سے عربی سیکھ لی اور خود ان کی حالت بھی معلوم کر لی اسمٰعیل جب جوان ہوائے تو انہیں بڑے بھلے معلوم ہوئے جب اسمٰعیل بالغ ہوئے تو انہوں نے اپنے قبیلہ کی ایک عورت سے ان کا نکاح کر دیا اور اسمٰعیل کی والدہ وفات پاگئیں حضرت ابراہیم اپنے چھوڑے ہوؤں کو دیکھنے کے لئے اسمعیل کے نکاح کے بعد تشریف لائے تو اسمٰعیل کو نہ پایا ان کی بیوی سے معلوم کیا تو اس نے کہا کہ وہ ہمارے لئے رزق تلاش کرنے گئے ہیں پھر ابراہیم علیہ السلام نے اس سے بسر اوقات اور حالت معلوم کی تو اس عورت نے کہا ہماری بری حالت ہے اور ہم بڑی تنگی اور پریشانی میں مبتلا ہیں (گویا) انہوں نے ابراہیم سے شکوہ کیا ابراہیم نے کہا کہ جب تمہارے شوہر آ جائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ تبدیل کردیں جب اسمٰعیل واپس آئے تو گویا انہوں نے اپنے والد کی تشریف آوری کے آثار پائے تو کہا کیا تمہارے پاس کوئی آدمی آیا تھا؟ بیوی نے کہا ہاں! ایسا ایسا ایک بوڑھا شخص آیا تھا اس نے آپ کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتا دیا اور اس نے ہماری بسر اوقات کے متعلق دریافت کیا تو میں نے بتا دیا کہ ہم تکلیف اور سختی میں ہیں اسمٰعیل نے کہا کیا انہوں نے کچھ پیغام دیا ہے؟ کہا ہاں! مجھ کو حکم دیا تھا کہ تمہیں ان کا سلام پہنچا دوں اور وہ کہتے تھے تم اپنے دروازہ کی چوکھٹ بدل دو اسمعیل نے کہا وہ میرے والد تھے اور انہوں نے مجھے تم کو جدا کرنے کا حکم دیا ہے لہذا تم اپنے گھر چلی جاؤ اور اس کو طلاق دے دی اور بنو جرہم کی کسی دوسری عورت سے نکاح کر لیا کچھ مدت کے بعد ابراہیم پھر آئے تو اسمعیل کو نہ پایا ان کی بیوی کے پاس آئے اور اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا وہ ہمارے لئے رزق تلاش کرنے گئے ہیں ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ اور ان کی بسر اوقات معلوم کی اس نے کہا ہم اچھی حالت اور فراخی میں ہیں اور ﷲ کی تعریف کی ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا تمہاری غذا کیا ہے؟ انہوں نے کہا گوشت ابراہیم نے پوچھا تمہارے پینے کی کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا پانی، ابراہیم نے دعا کی اے ﷲ! ان کے لئے گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما- آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت وہاں غلہ نہ ہوتا تھا اگر غلہ ہوتا تو اس میں بھی ان کے لئے دعا کرتے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص مکہ کے سوا کسی اور جگہ گوشت اور پانی پر گزارہ نہیں کرسکتا صرف گوشت اور پانی مزاج کے موافق نہیں آ سکتا ابراہیم نے کہا جب تمہارے شوہر آ جائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور انہیں میری طرف سے یہ حکم دینا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ باقی رکھیں جب اسمٰعیل آئے تو پوچھا کیا تمہارے پاس کوئی آدمی آیا تھا؟ بیوی نے کہا ہاں! ایک بزرگ خوبصورت پاکیزہ سیرت آئے تھے اور ان کی تعریف کی تو انہوں نے مجھ سے آپ کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتا دیا پھر مجھ سے ہماری بسراوقات کے متعلق پوچھا تو میں نے بتایا کہ ہم بڑی اچھی حالت میں ہیں اسمعیل نے کہا کہ تمہیں وہ کوئی حکم دے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ آپ کو سلام کہہ گئے ہیں اور حکم دے گئے ہیں کہ آپ اپنے دروازہ کی چوکھٹ باقی رکھیں اسمعیل نے کہا وہ میرے والد تھے اور چوکھٹ سے تم مراد ہو گویا انہوں نے مجھے یہ حکم دیا کہ تمہیں اپنی زوجیت میں باقی رکھوں پھر ابراہیم کچھ مدت کے بعد پھر آئے اور اسمٰعیل کو زمزم کے قریب ایک درخت کے سایہ میں بیٹھے ہوئے اپنے تیر بناتے پایا جب اسمٰعیل نے انہیں دیکھا تو ان کی طرف بڑھے اور دونوں نے ایسا معاملہ کیا جیسے والد لڑکے سے اور لڑکا والد سے کرتا ہے ابراہیم نے کہا اے اسمٰعیل! ﷲ نے مجھے ایک کام کا حکم دیا ہے انہوں نے عرض کیا کہ اس حکم کے مطابق عمل کیجئے ابراہیم بولے کیا تم میرا ہاتھ بٹاؤ گے؟ اسمٰعیل نے کہاں ہاں! میں آپ کا ہاتھ بٹاؤن گا ابراہیم نے کہا کہ ﷲ نے مجھے یہاں بیت ﷲ بنانے کا حکم دیا ہے اور آپ نے اس اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا یعنی اس کے گردا گرد ان دونوں نے کعبہ کی دیواریں بلند کیں اسمٰعیل پتھر لاتے تھے اور ابراہیم تعمیر کرتے تھے حتیٰ کہ جب دیوار بلند ہوئی تو اسمٰعیل ایک پتھر کو اٹھا لائے اور اسے ابراہیم کے لئے رکھ دیا ابراہیم اس پر کھڑے ہو کر تعمیر کرنے لگے اور اسمعیل انہیں پتھر دیتے تھے اور دونوں یہ دعا کرتے رہے کہ اے پروردگار! ہم سے (یہ کام) قبول فرما بیشک تو سننے والا جاننے والا ہے پھر دونوں تعمیر کرنے لگے اور کعبہ کے گرد گھوم کر یہ کہتے جاتے تھے اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ کام) قبول فرما بیشک تو سننے والا جاننے والا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment