کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ ذی قرد کا بیان
حدیث نمبر
3887
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَکْوَعِ يَقُولُ خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالْأُولَی وَکَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَی بِذِي قَرَدَ قَالَ فَلَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ قَالَ فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ يَا صَبَاحَاهْ قَالَ فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَی وَجْهِي حَتَّی أَدْرَکْتُهُمْ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْتَقُونَ مِنْ الْمَائِ فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي وَکُنْتُ رَامِيًا وَأَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعْ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعْ وَأَرْتَجِزُ حَتَّی اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً قَالَ وَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَائَ وَهُمْ عِطَاشٌ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ السَّاعَةَ فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَکْوَعِ مَلَکْتَ فَأَسْجِحْ قَالَ ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی نَاقَتِهِ حَتَّی دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ
قتیبہ بن سعید، حاتم، یزید بن ابی عبید، سلمہ بن اکوع سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں صبح کی اذان سے پہلے (جنگل کی طرف) نکلا مقام ذی قرد میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی دودھ والی اونٹنیاں چر رہی تھیں مجھ سے عبدالرحمن بن عوف کا غلام ملا اور بتایا کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنیاں پکڑی گئیں میں نے پوچھا کس نے پکڑا؟ اس نے جواب دیا کہ (قوم) غطفان نے- تو میں نے تین آوازیں یا صبا حاہ (یہ کلمہ دشمن کی آمد کی اطلاع پر لوگوں کو جمع کرنے کے لئے بولا جاتا ہے) کہہ کر لگائیں جس سے قیام اہل مدینہ کو خبر ہو گئی پھر میں فورا سیدھا چلا حتیٰ کہ ان کافروں کو جا پکڑا وہ ان اونٹنیوں کو پانی پلانے لگے تو میں ان پر تیر چلانے لگا اور میں (بڑا) تیر انداز تھا میں یہ رجز پڑھتا رہا کہ میں ابن اکوع ہوں آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے حتیٰ کہ میں نے ان سے اونٹنیوں کو چھڑا لیا اور میں نے ان سے تیس چادریں بھی چھین لیں سلمہ کہتے ہیں کہ پھر آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے لوگ بھی آ گئے میں نے عرض کیا: یا رسول ﷲ! میں نے ان لوگوں کو پانی بھی نہیں پینے دیا حالانکہ وہ پیاسے تھے لہذا فوراً ان کے تعاقب میں لوگوں کو بھیج دیجئے آپ نے فرمایا: اے ابن اکوع! تم نے انہیں بھگا دیا ہے لہذا اب چھوڑو بھی، سلمہ کہتے ہیں پھر ہم واپس آ گئے اور رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر مجھے پیچھے بٹھا کر لائے حتیٰ کہ ہم مدینہ میں داخل ہو گئے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment