کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
قصہ قبائل عکل و عرینہ۔
حدیث نمبر
3886
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَالْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو رَجَائٍ مَوْلَی أَبِي قِلَابَةَ وَکَانَ مَعَهُ بِالشَّأْمِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ اسْتَشَارَ النَّاسَ يَوْمًا قَالَ مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْقَسَامَةِ فَقَالُوا حَقٌّ قَضَی بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَضَتْ بِهَا الْخُلَفَائُ قَبْلَکَ قَالَ وَأَبُو قِلَابَةَ خَلْفَ سَرِيرِهِ فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ فَأَيْنَ حَدِيثُ أَنَسٍ فِي الْعُرَنِيِّينَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ إِيَّايَ حَدَّثَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ مِنْ عُرَيْنَةَ وَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ مِنْ عُکْلٍ ذَکَرَ الْقِصَّةَ
محمد بن عبدالرحیم، حفص بن عمر، ابوعمر حوضی، عماد بن زید، ایوب، حجاج صواف، ابورجاء سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے لوگوں سے دریافت کیا کہ تم قسامت کے متعلق کیا جانتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ قسامت برحق ہے- رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خلفاء نے بھی اس کا حکم دیا ہے جو کہ آپ سے پہلے گزر چکے ہیں اس وقت ابوقلابہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے تخت کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے اتنے میں عنبسہ بن سعید بولے کہ حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیث عرنیین کہاں ہے- ابوقلابہ نے کہا کہ یہ حدیث تو حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے ہی بیان کی تھی اور اس کو عبدالعزیز بن صہیب نے بھی حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں صرف عرینہ کا ذکر ہے مگر ابوقلابہ کی روایت میں حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے عکل کا لفظ ذکر کیا گیا ہے جو اس قصہ میں ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment