کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ خیبر کا بیان
حدیث نمبر
3894
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَی هُوَ وَالْمُشْرِکُونَ فَاقْتَتَلُوا فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی عَسْکَرِهِ وَمَالَ الْآخَرُونَ إِلَی عَسْکَرِهِمْ وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً وَلَا فَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ فَقِيلَ مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ کَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا صَاحِبُهُ قَالَ فَخَرَجَ مَعَهُ کُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ قَالَ فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ سَيْفَهُ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَی سَيْفِهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالَ الرَّجُلُ الَّذِي ذَکَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِکَ فَقُلْتُ أَنَا لَکُمْ بِهِ فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ ثُمَّ جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ فِي الْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِکَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
قتیبہ، یعقوب، ابی حازم، سہل بن سعد ساعدی رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اور مشرکین (یعنی یہود و خیبر) صف آراء ہوکر خوب لڑے پھر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اور دوسرے لوگ اپنے اپنے لشکروں کی طرف واپس آئے اور اصحاب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم (کے لشکر) میں ایک ایسا بھی آدمی تھا جو کسی اکیلے یہودی کو بغیر تلوار سے قتل کئے نہ چھوڑتا تھا مسلمانوں میں مشہور ہوا کہ ہماری طرف سے جتنا کام آج فلاں شخص نے کیا کسی نے نہیں کیا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو وہ دوزخی ہے (یہ سن کر) ایک آدمی نے کہا میں (امتحان کے طور پر) اس کے ساتھ رہوں گا چناچہ وہ اس کے پیچھے ہوگیا کہ جب وہ ٹھہرتا یہ بھی ٹھہر جاتا اور جب وہ تیزی سے چلتا تو یہ بھی چلنے لگتا وہ کہتا ہے کہ پھر اس شخص کے ایک سخت زخم لگا (جس کی تکلیف برداشت نہ کرتے ہوئے) اس نے جلدی سے مرنا چاہا تو اس نے اپنی تلوار زمین پر ٹیک کر اس کی نوک اپنے سینہ کے درمیان رکھی پھر اس پر اپنا بوجھ ڈال کر جھول گیا اور خود کشی کرلی تو یہ آدمی آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷲ کے رسول ہیں آپ نے فرمایا کیا بات ہے اس نے عرض کیا کہ ابھی آپ نے جو ایک شخص کے دوزخی ہونے کے متعلق فرمایا تھا تو لوگوں کو یہ چیز دشوار سی معلوم ہوئی تو میں نے کہا اس کی حقیقت معلوم کرنے کا ذمہ دار ہوں تو میں اس کی تلاش میں چلا پھر وہ سخت زخمی ہوا اور جلدی مرنے کے لئے اپنی تلوار کو زمین پر ٹیک کر اس کی نوک اپنے سینہ کے درمیان رکھ رلی پھر اس پر اپنا بوجھ ڈال کر خود کشی کرلی تو اس وقت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان لوگوں کی نظر میں جنتیوں جیسا عمل کرتا ہے حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے کہ کوئی ایسا کام کرتا ہے کہ جس سے پہلے تمام اعمال اکارت ہو جاتے ہیں اور کوئی شخص لوگوں کی نظر میں دوزخیوں جیسا عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment