کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ خیبر کا بیان
حدیث نمبر
3898
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلٍ قَالَ الْتَقَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِکُونَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَاقْتَتَلُوا فَمَالَ کُلُّ قَوْمٍ إِلَی عَسْکَرِهِمْ وَفِي الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ مِنْ الْمُشْرِکِينَ شَاذَّةً وَلَا فَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا فَضَرَبَهَا بِسَيْفِهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَجْزَأَ أَحَدٌ مَا أَجْزَأَ فُلَانٌ فَقَالَ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالُوا أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنْ کَانَ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ لَأَتَّبِعَنَّهُ فَإِذَا أَسْرَعَ وَأَبْطَأَ کُنْتُ مَعَهُ حَتَّی جُرِحَ فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نِصَابَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَجَائَ الرَّجُلُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ وَمَا ذَاکَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ وَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
عبدﷲ بن مسلمہ، نے ابی حازم ،ان کے والد، حضرت سہل رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک جہاد (یعنی خیبر) میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم اور مشرکین مقابل ہوکر خوب لڑے پھر ہر قوم اپنے اپنے لشکر کی طرف واپس ہوئی مسلمانوں میں ایک شخص تھا جو اکیلے مشرک کو نہ چھوڑتا تھا بلکہ اس کے پیچھے سے آکر اس کے تلوار مارتا (اور قتل کردیتا) آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یا رسول ﷲ! جتنا کام فلاں نے کیا کسی نے نہیں کیا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو دوزخی ہے صحابہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے دل میں کہا اگر وہ دوزخی ہے تو پھر ہم میں جنتی کون ہوگا اتنے میں مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں اس کے پیچھے رہوں گا تاکہ اس کا امتحان کروں جب وہ تیز چلتا یا آہستہ تو میں اسکے ساتھ رہتا حتیٰ کہ وہ زخمی ہوا اور زخموں کی تکلیف سے بے تاب ہوکر جلدی مرنا چاہا لہذا اس نے تلوار کا قبضہ زمین پر ٹکا کر اس کے پھل کو اپنے سینہ کے درمیان رکھا پھر اس پر اپنا بوجھ ڈال کر خود کشی کرلی اب وہ شخص نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷲ کے رسول ہیں آپ نے فرمایا کیا بات ہوئی؟ تو اس نے وہ واقعہ آپ کو سنا دیا آپ نے فرمایا کہ کوئی آدمی لوگوں کی نظر میں جنتیوں جیسا عمل کرتا ہے حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے اور کوئی لوگوں کی نظر میں دوزخیوں جیسا عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment