کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
غزوہ فتح (مکہ) کا بیان
حدیث نمبر
3951
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ انْطَلِقُوا حَتَّی تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا کِتَابٌ فَخُذُوا مِنْهَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا تَعَادَی بِنَا خَيْلُنَا حَتَّی أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ قُلْنَا لَهَا أَخْرِجِي الْکِتَابَ قَالَتْ مَا مَعِي کِتَابٌ فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ قَالَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَی نَاسٍ بِمَکَّةَ مِنْ الْمُشْرِکِينَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَاطِبُ مَا هَذَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي کُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ يَقُولُ کُنْتُ حَلِيفًا وَلَمْ أَکُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا وَکَانَ مَنْ مَعَکَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مَنْ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالَهُمْ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِکَ مِنْ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي وَلَمْ أَفْعَلْهُ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًا بِالْکُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَکُمْ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيکَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَی مَنْ شَهِدَ بَدْرًا فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِيَائَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ کَفَرُوا بِمَا جَائَکُمْ مِنْ الْحَقِّ إِلَی قَوْلِهِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَائَ السَّبِيلِ
قتیبہ، سفیان، عمروبن دینار، حسن بن محمد، عبیدﷲ بن ابی رافع، حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے زبیراور مقداد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ جاؤ حتی کہ (مقام) روضہ خاخ تک پہنچو- وہاں تمہیں ایک کجاوہ نشین عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہوگا، وہ خط اس سے لے لو، حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے گھوڑے تیزی کے ساتھ ہمیں لے اڑے حتی کہ روضہ خاخ پہنچ گئے، وہاں ہمیں ایک کجاوہ نشین عورت ملی، ہم نے اس سے کہا خط نکال، اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں، ہم نے اس سے کہا کہ یا تو خط نکال دے ورنہ ہم تیرے کپڑے اتار (کرتلاشی) لیں گے، تو اس نے اپنی چوٹی میں سے خط نکالا، ہم وہ خط لے کر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو اس میں لکھا ہوا تھا حاطب بن ابی بلتعہ کی جانب سے مشرکین مکہ کے نام، انہیں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بعض معاملات (جنگ) کی اطلاع دے رہے تھے، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حاطب سے فرمایا، حاطب یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا یا رسول ﷲ! مجھ پر جلدی نہ کیجئے، میں ایسا آدمی ہوں کہ قریش سے میرا تعلق ہے، یعنی میں انکا حلیف ہوں اور میں انکی ذات سے نہیں اور آپ کے ساتھ جومہاجر ہیں، ان سب کے رشتہ دار ہیں جو انکے مال، اولاد کی حمایت کرسکتے ہیں، چونکہ ان سے میری قرابت نہیں تھی اس لئے میں نے چاہا کہ ان پرکوئی ایسا احسان کردوں جس سے وہ میری رشتہ داری کی حفاظت کریں اور یہ کام میں نے اپنے دین سے پھرجانے اور اسلام لانے کے بعد کفر پر راضی ہونے کے سبب سے نہیں کیا ہے، تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، دیکھو، حاطب نے تم سے سچ سچ کہہ دیا ہے، حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول ﷲ! مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن ماردوں، آپ نے فرمایا (نہیں نہیں کہ) یہ بدر میں شریک تھے اور تمہیں کیا معلوم ہے؟ ﷲ تعالی نے حاضرین بدر کی طرف التفات کرکے فرمایا تھا، کہ تم جو تمہارا جی چاہے، عمل کرو کہ میں تمہیں بخش چکا، پھر ﷲ تعالی نے یہ سورت نازل فرمائی کہ،، اے ایمان والو! تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ تم ان سے اپنی محبت ظاہر کرو، آخر آیت (فَقَدْ ضَلَّ سَوَائَ السَّبِيلِ) تک-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment