کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
غزوات کا بیان
باب
جنگ خیبر کا بیان
حدیث نمبر
3919
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ إِمَّا قَالَ بِضْعٌ وَإِمَّا قَالَ فِي ثَلَاثَةٍ وَخَمْسِينَ أَوْ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي فَرَکِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَی النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّی قَدِمْنَا جَمِيعًا فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ وَکَانَ أُنَاسٌ مِنْ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا يَعْنِي لِأَهْلِ السَّفِينَةِ سَبَقْنَاکُمْ بِالْهِجْرَةِ وَدَخَلَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَيْسٍ وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا عَلَی حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَةً وَقَدْ کَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَی النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَی حَفْصَةَ وَأَسْمَائُ عِنْدَهَا فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَی أَسْمَائَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَيْسٍ قَالَ عُمَرُ الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَائُ نَعَمْ قَالَ سَبَقْنَاکُمْ بِالْهِجْرَةِ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْکُمْ فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ کَلَّا وَاللَّهِ کُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ جَائِعَکُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَکُمْ وَکُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَائِ الْبُغَضَائِ بِالْحَبَشَةِ وَذَلِکَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَايْمُ اللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّی أَذْکُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ کُنَّا نُؤْذَی وَنُخَافُ وَسَأَذْکُرُ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ وَاللَّهِ لَا أَکْذِبُ وَلَا أَزِيغُ وَلَا أَزِيدُ عَلَيْهِ فَلَمَّا جَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ کَذَا وَکَذَا قَالَ فَمَا قُلْتِ لَهُ قَالَتْ قُلْتُ لَهُ کَذَا وَکَذَا قَالَ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْکُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ وَلَکُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ قَالَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَی وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالًا يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَا مِنْ الدُّنْيَا شَيْئٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلَا أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَی وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي وقَالَ أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الْأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ وَإِنْ کُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ وَمِنْهُمْ حَکِيمٌ إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ أَوْ قَالَ الْعَدُوَّ قَالَ لَهُمْ إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَکُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ
محمد بن علاء، ابواسامہ، یزید بن عبدﷲ، ابوبردہ، حضرت ابوموسیٰ رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا ہمیں یمن میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے مکہ سے ہجرت کی خبر ملی تو میں اور میرے دو بھائی جن سے میں چھوٹا تھا ایک ابوبردہ اور دوسرے ابورحم کچھ اوپر پچاس یا یہ فرمایا کہ یا۵۳یا۵۲ آدمیوں کے ہمراہ جو میری قوم کے تھے (یمن سے) بقصد ہجرت چلے اور کشتی میں بیٹھ گئے اس کشتی نے ہمیں حبشہ میں نجاشی کے پاس پہنچادیا تو وہاں ہمیں جعفر بن ابی طالب ملے ہم ان کے ساتھ مقیم ہو گئے وہاں سے ہم سب مدینہ کی طرف چلے تو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم سے فتح خیبر کے موقعہ پر ملاقات ہوئی کچھ لوگ ہم اہل سفینہ سے یہ کہنے لگے کہ ہجرت میں لوگ تم سے سبقت لے گئے اسماء رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بنت عمیس جو ہمارے ساتھ آئی تھیں ام المومنین حفصہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے پاس زیارت کے واسطے گئیں اور انہوں نے مہاجرین کے ساتھ نجاشی کی طرف بھی ہجرت کی تھی اسماء، حضرت حفصہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس ہی تھیں کہ حضرت عمر حضرت حفصہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور اسماء کو دیکھ کر پوچھا یہ کون ہے؟ حضرت حفصہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ اسماء رضی ﷲ تعالیٰ عنہا بنت عمیس ہیں حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کیا دریا والی حبشیہ اسماء رضی ﷲ تعالیٰ عنہا ہیں یعنی جنہوں نے حبشہ ہجرت کی تھی اور اب براہ سمندر آئی ہیں اسماء نے کہا ہاں! حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا ہجرت میں ہم تم پر سبقت لے گئے لہذا ہم تم سے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے زیادہ قریب اور حق دار ہیں حضرت اسماء رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو یہ سن کر غصہ آ گیا اور کہا ہرگز نہیں بخدا تم رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ تمہارے بھوکے کو کھانا کھلاتے اور ناواقف کو نصیحت و وعظ فرماتے تھے اور ہم غیروں اور دشمنوں کے ملک میں تھے اور یہ سب کچھ (مصائب) ﷲ اور اس کے رسول کے راستہ میں ہوتے تھے اور خدا کی قسم! میرے اوپر کھانا پینا حرام ہے جب تک کہ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے تمہاری بات نہ کہہ دوں اور ہمیں تو ایذا دی جاتی تھی اور خوف دلایا جاتا تھا میں بہت جلد یہ بات رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے بیان کرکے آپ سے پوچھوں گی بخدا نہ میں جھوٹ بولوں گی نہ کجراہی اختیار کروں گی اور نہ اس سے زیادہ بات بیان کروں گی پھر جب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم تشریف لائے تو اسماء رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول ﷲ! عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ایسا ایسا کہا ہے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے انہیں کیا جواب دیا انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے اس اس طرح کہا آپ نے فرمایا وہ تم سے زیادہ میرے قریب اور حق دار نہیں ہیں کیونکہ اس کی اور اس کے ساتھیوں کی ایک مرتبہ ہجرت ہے اور اے اہل سفینہ! تمہاری دو مرتبہ ہجرت ہے اسماء رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتی ہیں کہ میں ابوموسیٰ اور اہل سفینہ کو دیکھتی کہ وہ میرے پاس گروہ در گروہ آتے اور یہ حدیث مجھ سے پوچھتے دنیا کی کوئی چیز ان کے دلوں میں آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بڑی اور مسرت بخش نہیں تھی ابوبردہ کہتے ہیں اسماء رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ابوموسیٰ اس حدیث کو بار بار مجھ سے سنتے تھے ابوبردہ واسطہ ابوموسیٰ روایت کرتے ہیں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا میں اشعری احباب کے قرآن پڑھنے کی آواز کو جب وہ رات میں آتے ہیں پہچان لیتا ہوں اور میں ان کے رات میں قرآن پڑھنے کی آواز سے ان کی منزلوں کو پہچان جاتا ہوں اگرچہ دن میں میں نے ان کی فرودگاہ نہ دیکھی ہو ان میں سے حکیم بھی ہیں جب وہ کسی جماعت یا دشمن (شک روای) سے مقابلہ کرتے تو ان سے کہتے میرے احباب تمہیں انتظار کرنے کا حکم دیتے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment