کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
تفسیر سورۃ حم زخرف
حدیث نمبر
4468
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَی الْمِنْبَرِ وَنَادَوْا يَا مَالِکُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّکَ وَقَالَ قَتَادَةُ مَثَلًا لِلْآخِرِينَ عِظَةً لِمَنْ بَعْدَهُمْ وَقَالَ غَيْرُهُ مُقْرِنِينَ ضَابِطِينَ يُقَالُ فُلَانٌ مُقْرِنٌ لِفُلَانٍ ضَابِطٌ لَهُ وَالْأَکْوَابُ الْأَبَارِيقُ الَّتِي لَا خَرَاطِيمَ لَهَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ أَيْ مَا کَانَ فَأَنَا أَوَّلُ الْآنِفِينَ وَهُمَا لُغَتَانِ رَجُلٌ عَابِدٌ وَعَبِدٌ وَقَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ وَيُقَالُ أَوَّلُ الْعَابِدِينَ الْجَاحِدِينَ مِنْ عَبِدَ يَعْبَدُ وَقَالَ قَتَادَةُ فِي أُمِّ الْکِتَابِ جُمْلَةِ الْکِتَابِ أَصْلِ الْکِتَابِأَفَنَضْرِبُ عَنْکُمْ الذِّکْرَ صَفْحًا أَنْ کُنْتُمْ قَوْمًا مُسْرِفِينَ مُشْرِکِينَ وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ هَذَا الْقُرْآنَ رُفِعَ حَيْثُ رَدَّهُ أَوَائِلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ لَهَلَکُوا فَأَهْلَکْنَا أَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَمَضَی مَثَلُ الْأَوَّلِينَ عُقُوبَةُ الْأَوَّلِينَ جُزْئًا عِدْلًا
حجاج بن منہال، سفیان، ابن عیینہ، عمرو و عطاء، صفوان بن یعلی، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کو منبر پر آیت ﴿وَنَادَوْا يَا مَالِکُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّکَ﴾ پڑھتے ہوئے سنا اور قتادہ نے کہا "مثلا للاخرین" میں مثل سے مراد نصیحت ہے اور ان کے علاوہ دوسروں نے کہا کہ "مقرنین" سے مراد ضابطین (قابو کرنے والا ہے اور "اکواب" سے مراد لوٹے ہیں جن میں ٹونٹیاں نہیں ہوتیں ''اول العابدین'' سے مراد ماکان ہے (ان نافیہ ہے) یعنی ﷲ کے کوئی اولاد نہیں میں پہلا نفرت کرنے والا ہوں اس میں دو لغت ہیں چناچہ بولتے ہیں "رجل عابد و عبد" عبادت کرنے والے اور نفرت کرنے والے آدمی اور عبد ﷲ نے اس طرح پڑھا "وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ" اور رسول نے کہا اے میرے رب اور بعض کا قول ہے کہ "اول العابدین" سے مراد ہے پہلے انکار کرنے والے عبد یعبد سے اور قتادہ نے کہا کہ "فی ام الکتاب" سے مراد جملہ کتاب اور اصل کتاب ہے "افنضرب عنکم الذکر صفحا ان کنتم قوما مسرفین" سے مراد مشرکین ہے بخدا اگر یہ قرآن اس وقت اٹھا لیا جاتا جب اس امت کے ابتدائی لوگوں نے اس کا انکار کیا تھا تو یہ امت ہلاک ہوجاتی ﴿فَأَهْلَکْنَا أَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَمَضَی مَثَلُ الْأَوَّلِينَ﴾ میں مثل الاولین سے مراد عقوبتہ الاولین ہے (پہلے لوگوں کا انجام) جزاء سے مراد عدلا ہے (ہم پلہ) -
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment