کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ کا قول کہ روز محشر وہ تم کو اس طرح نظر آئیں گے جیسے مدہوش اور نشہ میں بدمست ہیں۔
حدیث نمبر
4389
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا آدَمُ يَقُولُ لَبَّيْکَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْکَ فَيُنَادَی بِصَوْتٍ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُکَ أَنْ تُخْرِجَ مِنْ ذُرِّيَّتِکَ بَعْثًا إِلَی النَّارِ قَالَ يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ أُرَاهُ قَالَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَحِينَئِذٍ تَضَعُ الْحَامِلُ حَمْلَهَا وَيَشِيبُ الْوَلِيدُ وَتَرَی النَّاسَ سُکَارَی وَمَا هُمْ بِسُکَارَی وَلَکِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَی النَّاسِ حَتَّی تَغَيَّرَتْ وُجُوهُهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَمِنْکُمْ وَاحِدٌ ثُمَّ أَنْتُمْ فِي النَّاسِ کَالشَّعْرَةِ السَّوْدَائِ فِي جَنْبِ الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ أَوْ کَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَائِ فِي جَنْبِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَکَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَکَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَکَبَّرْنَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ تَرَی النَّاسَ سُکَارَی وَمَا هُمْ بِسُکَارَی وَقَالَ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَقَالَ جَرِيرٌ وَعِيسَی بْنُ يُونُسَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ سَکْرَی وَمَا هُمْ بِسَکْرَی
عمر بن حفص، حفص، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوسعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ﷲ تعالیٰ قیامت کے دن حضرت آدم کو بلائے گا وہ لبیک ربنا وسعدیک کہتے ہوئے آئیں گے خدا کے حکم سے فرشتہ پکارے گا کہ اے آدم! اپنی اولاد میں سے دوزخ کے لئے لاؤ حضرت آدم کہیں گے کتنے آدمی لاؤں؟ فرشتہ کہے گا ہزار میں سے نوسو ننانوے لاؤ یہ وقت ہوگا کہ حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے، جوان بوڑھے ہو جائیں گے، اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (تَرَی النَّاسَ سُکَارَی وَمَا هُمْ بِسُکَارَی الخ) آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات سن کر صحابہ کے چہرے خوف سے زرد ہو گئے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تسکین کرتے ہوئے فرمایا کہ تم کیوں اس قدر ڈرتے ہو یہ مقدار تو یاجو ج ماجوج کے آدمیوں کی ہوگی اور ہزار میں سے ایک تم میں سے ہوگا جیسے سفید بیل کے پہلو میں ایک سیاہ بال ہوتا ہے یا سیاہ بیل میں ایک سفید بال ہوتا ہے اور مجھ کو امید ہے کہ تم سارے بہشتیوں میں چوتھائی حصہ ہو گے اور باقی تین حصوں میں دوسری تمام امتیں ہونگی یہ سن کر ہم نے ﷲ اکبر کہا آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم تہائی حصہ ہونگے ہم نے پھر تکبیر بلند کی آپ نے فرمایا نہیں تم نصف ہوں گے ہم نے پھر تکبیر کہی ابواسامہ اعمش سے اس طرح روایت کرتے ہیں کہ یہ مشہور روایت ہے کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے نکال لو تو یہ حفص کی روایت کے مطابق ہو جاتی ہے ابومعاویہ کی روایت میں سکری مفرد آیا ہے اور قرآن میں "بسکاری" ہے اور یہی حمزہ اور کسائی کی قرات ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment