کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
آیت فمالکم فی المنافقین۔
حدیث نمبر
4239
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَا لَکُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُحُدٍ وَکَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ فَرِيقٌ يَقُولُ اقْتُلْهُمْ وَفَرِيقٌ يَقُولُ لَا فَنَزَلَتْ فَمَا لَکُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَقَالَ إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الْخَبَثَ کَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ
محمد بن بشار، غندر، عبدالرحمن، شعبہ، عدی، عبد ﷲ بن یزید، حضرت زید بن ثابت رضی ﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ یہ آیت فمالکم فی المنافقین الخ اس وقت نازل ہوئی جب کہ جنگ احد میں کچھ لوگ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب سے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو چھوڑ کر الگ ہو گئے تھے اس وقت مسلمانوں کی ان کے متعلق دو رائیں ہو گئیں تھیں ایک فریق تو کہتا تھا کہ انہیں قتل کردو اور کچھ کہتے تھے کہ نہیں ایسا مت کرو رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ کا نام طیبہ ہے یہ ناپاکی اور خباثت کو اس طرح دور کردیتا ہے جس طرح آگ چاندی کی میل کو دورکردیتی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment