Sunday, June 5, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1631,TotalNo:4167


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہا اور قتل کرو تم ان کو یہاں تک کہ فتنہ و فساد کا خاتمہ ہو جائے۔
حدیث نمبر
4167
حَدَّثَنَي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَتَاهُ رَجُلَانِ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَا إِنَّ النَّاسَ صَنَعُوا وَأَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَصَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَمْنَعُکَ أَنْ تَخْرُجَ فَقَالَ يَمْنَعُنِي أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ دَمَ أَخِي فَقَالَا أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّی لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ فَقَالَ قَاتَلْنَا حَتَّی لَمْ تَکُنْ فِتْنَةٌ وَکَانَ الدِّينُ لِلَّهِ وَأَنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّی تَکُونَ فِتْنَةٌ وَيَکُونَ الدِّينُ لِغَيْرِ اللَّهِ وَزَادَ عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي فُلَانٌ وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ أَنَّ بُکَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا حَمَلَکَ عَلَی أَنْ تَحُجَّ عَامًا وَتَعْتَمِرَ عَامًا وَتَتْرُکَ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ عَلِمْتَ مَا رَغَّبَ اللَّهُ فِيهِ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ إِيمَانٍ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالصَّلَاةِ الْخَمْسِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَأَدَائِ الزَّکَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ قَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَا تَسْمَعُ مَا ذَکَرَ اللَّهُ فِي کِتَابِهِ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّی تَفِيئَ إِلَی أَمْرِ اللَّهِ قَاتِلُوهُمْ حَتَّی لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ قَالَ فَعَلْنَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ الْإِسْلَامُ قَلِيلًا فَکَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ فِي دِينِهِ إِمَّا قَتَلُوهُ وَإِمَّا يُعَذِّبُونَهُ حَتَّی کَثُرَ الْإِسْلَامُ فَلَمْ تَکُنْ فِتْنَةٌ قَالَ فَمَا قَوْلُکَ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ قَالَ أَمَّا عُثْمَانُ فَکَأَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ وَأَمَّا أَنْتُمْ فَکَرِهْتُمْ أَنْ تَعْفُوا عَنْهُ وَأَمَّا عَلِيٌّ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنُهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَقَالَ هَذَا بَيْتُهُ حَيْثُ تَرَوْنَ
محمد بن بشار، عبدالوہاب، عبیدﷲ، نافع، حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ ابن زبیر کے فتنہ کے زمانہ میں دو آدمی میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ لوگوں میں کیسا فتنہ و فساد برپا ہے حالانکہ آپ حضرت عمر رضی ﷲ عنہ کے صاحبزادے اور صحابی رسول اکرم ہیں آپ اس وقت کیوں نہیں اٹھتے اور اس فتنہ و فساد کو کیوں نہیں روکتے؟ میں نے کہا کہ میں اس لئے خاموش ہوں کہ ﷲ نے مسلمان کا مسلمان کو خون کرنے سے منع فرمایا ہے، وہ کہنے لگے کیا ﷲ نے یہ نہیں فرمایا کہ ان سے لڑو،یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوجائے میں نے کہا کہ یہ کام ہم آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں کر چکے اور یہاں تک کیا کہ شرک و کفر کا فتنہ مٹ گیا اور خالص خدا کا دین رہ گیا- اب تم چاہتے ہو کہ لڑ کر فتنہ بڑھ جائے، عثمان بن صالح کہتے ہیں کہ عبد ﷲ بن وہب نے اس حدیث کو اس طرح بیان کیا ہے عبد ﷲ بن لہیعہ، حیوۃ بن شریح، بکر بن عمرو، معافری، بکیر بن عبد ﷲ، نافع سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابا عبدالرحمن! یہ آپ کو کیا ہوا کہ ایک سال حج کرتے ہو، ایک سال عمرہ کرتے ہو اور جہاد فی سبیل ﷲ کو ترک کر رکھا ہے، حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے جہاد کی بڑی فضیلت بیان کی ہے اور جہاد کرنے کی رغبت دلائی ہے آپ نے فرمایا: اے میرے بھائی! اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اول تو حید و رسالت کا اقرار، دوم نماز پنجگانہ، سوم رمضان کے روزے ،چہارم زکوۃ کا ادا کرنا، پنجم حج ،اس کے بعد اس آدمی نے کہا کہ کیا تم نے ﷲ کا یہ حکم نہیں سنا کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑنے لگیں تو ان میں صلح کرادو- اور اگر کوئی گروہ نہ مانے اور دوسرے پر زیادتی کرے تو پھر اس سے اس وقت تک لڑتے رہو جب تک کہ وہ ﷲ کا حکم ماننے لگے اور ان سے لڑو جب تک فتنہ ختم نہ ہوجائے۔ عبد ﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ نے کہا کہ ہم زمانہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ کام کر چکے ہیں حالانکہ اس وقت مسلمان بہت قلیل اور کافر بہت زیادہ تھے یہ کافر مسلمانوں کو پریشان کرتے اور ان کے دین کو خراب کیا کرتے تھے آخر مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی، فتنہ ختم ہوگیا اس آدمی نے پھر کہا کہ اچھا یہ تو فرمایئے کہ علی رضی ﷲ عنہ و عثمان رضی ﷲ عنہ کے متعلق آپ کیا خیال رکھتے ہیں؟ عبد ﷲ بن عمررضی ﷲ عنہ نے جواب دیا کہ حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کے قصور کو ﷲ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہے، مگر تم اب بھی ان کو برا کہتے ہوا ورحضرت علی رضی ﷲ عنہ تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں ان کا گھر تم یہ سامنے دیکھ رہے ہو ان کے لئے کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment