Sunday, June 5, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1699,TotalNo:4235


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ قسم ہے تیرے رب کی کہ یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے۔
حدیث نمبر
4235
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فِي شَرِيجٍ مِنْ الْحَرَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ الْمَائَ إِلَی جَارِکَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ کَانَ ابْنَ عَمَّتِکَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسْ الْمَائَ حَتَّی يَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ ثُمَّ أَرْسِلْ الْمَائَ إِلَی جَارِکَ وَاسْتَوْعَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُکْمِ حِينَ أَحْفَظَهُ الْأَنْصَارِيُّ کَانَ أَشَارَ عَلَيْهِمَا بِأَمْرٍ لَهُمَا فِيهِ سَعَةٌ قَالَ الزُّبَيْرُ فَمَا أَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَاتِ إِلَّا نَزَلَتْ فِي ذَلِکَ فَلَا وَرَبِّکَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّی يُحَکِّمُوکَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ
علی بن عبد ﷲ، محمد بن جعفر، معمر، زہری، حضرت عروہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ حضرت زبیر رضی ﷲ عنہ کا ایک انصاری سے ایک بار جھگڑا ہوگیا کہ کون پہلے کھیت کو پانی پہنچائے؟ آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے زبیر! تم پہلے اپنے کھیت کو پانی دے لو اور پھر پڑوسی کے لئے پانی کو چھوڑ دو انصاری نے کہا اے ﷲ کے رسول! آپ نے ایسا شاید اس لئے فرمایا کہ یہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی کے بیٹے ہیں، یہ بات سن کر حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا اور آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے دوبارہ حضرت زبیر رضی ﷲ عنہ سے فرمایا کہ پہلے تم اپنے باغ کو پانی دو اور منڈھیر تک بھر دو پھر پڑوسی کے لئے چھوڑ دو زہری کہتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی ﷲ عنہ کو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے پورا حق دلا دیا ورنہ پہلے حکم میں دونوں کی رعایت رکھی گئی تھی یہ اس لئے ہوا کہ انصاری نے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کو غصہ دلایا تھا حضرت زبیر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ آیت فَلَا وَرَبِّکَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّی يُحَکِّمُوکَ الخ اسی واقعہ کے لئے نازل ہوئی تھی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment