کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ تعالیٰ کا قول کہ تمہارے لئے نصف ہے جو تمہاری بیویوں نے چھوڑا ہے۔
حدیث نمبر
4228
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ وَرْقَائَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ وَکَانَتْ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِکَ مَا أَحَبَّ فَجَعَلَ لِلذَّکَرِ مِثْلَ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ وَجَعَلَ لِلْأَبَوَيْنِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسَ وَالثُّلُثَ وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ وَالرُّبُعَ وَللزَّوْجِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ
محمد بن یوسف، ورقاء ابن ابی نجیح، عطاء، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ابتدائے اسلام میں کل مال بیٹے کو ملتا تھا اور ماں باپ کو وہ ملتا جس کی وصیت کی جاتی تھی ﷲ تعالیٰ نے جو چاہا اسے منسوخ فرما دیا اور مرد کے لئے عورت سے دگنا مقررفرمایا، ماں باپ کے لئے چھٹا حصہ اور تہائی مقرر فرمایا، بیوی کے آٹھواں یا چوتھائی مقرر فرمایا، اور خاوند کو نصف یا چوتھائی عطا کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment