Saturday, June 11, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1859,TotalNo:4395


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ کا قول کہ ملزمہ سے اس طرح سزا ٹل سکتی ہے۔
حدیث نمبر
4395
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيکِ ابْنِ سَحْمَائَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِکَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَی أَحَدُنَا عَلَی امْرَأَتِهِ رَجُلًا يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا حَدٌّ فِي ظَهْرِکَ فَقَالَ هِلَالٌ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ فَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنْ الْحَدِّ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ فَقَرَأَ حَتَّی بَلَغَ إِنْ کَانَ مِنْ الصَّادِقِينَ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَجَائَ هِلَالٌ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَکُمَا کَاذِبٌ فَهَلْ مِنْکُمَا تَائِبٌ ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا کَانَتْ عِنْدَ الْخَامِسَةِ وَقَّفُوهَا وَقَالُوا إِنَّهَا مُوجِبَةٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَتَلَکَّأَتْ وَنَکَصَتْ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهَا تَرْجِعُ ثُمَّ قَالَتْ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ فَمَضَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَائَتْ بِهِ أَکْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيکِ ابْنِ سَحْمَائَ فَجَائَتْ بِهِ کَذَلِکَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا مَا مَضَی مِنْ کِتَابِ اللَّهِ لَکَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ
محمد بن بشار، ابن ابی عدی، ہشام بن حسان، عکرمہ، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی کو شریک بن سحماء سے زنا کرنے پر آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اتہام لگایا نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہلال گواہ لاؤ ورنہ تمہارے پر تہمت لگانے کی حد جاری کی جائے گی اس نے کہا اے ﷲ کے رسول! جب ہم سے کوئی اپنی بیوی کو زنا کرتا دیکھے تو گواہ کہاں تلاش کرتا پھرے یہ تو بہت دشوار ہے مگر آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ گواہ لاؤ ورنہ حد قذف جاری کی جائے- ہلال نے کہا قسم ہے اس خدا کی! جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر مبعوث فرمایا ہے میں سچا ہوں اور ﷲ ضرور میرے معاملہ میں کوئی حکم نازل فرمائے گا اس وقت حضرت جبریل یہ آیت (وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ ) تک لے کر آئے اس کے بعد آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم متوجہ ہوئے عورت کو بلایا ہلال بھی آئے اور لعان کیا اور آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے کہ ﷲ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سچا کون ہے؟ اور ایک کی بات ضرور جھوٹی ہے پھر تم میں سے کوئی ہے جو توبہ کرے پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور چار مرتبہ اس طرح لعان کیا کہ میں ﷲ کو گواہ کرکے کہتی ہوں کہ میں سچی ہوں اور پانچویں مرتبہ جب یہ کہنے لگی کہ اگر میں جھوٹی ہوں تو ﷲ کی مجھ پر لعنت ہو تو لوگوں نے کہا کہ یہ بہت بڑی اور سخت بات ہے ایسا مت کہو کیونکہ اگر جھوٹ ہوا تو باعث عذاب ہے ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں یہ سن کر وہ ہچکچائی اور گردن ڈال دی ہم نے سوچا کہ شاید یہ رجوع کرے گی مگر اس نے پانچویں دفعہ یہ کہتے ہوئے کہ کیا میں قوم پر دھبہ لگاؤں گی وہ جملہ ادا کر ہی دیا حضور نے فرمایا دیکھتے رہو اگر بچہ سیاہ آنکھوں والا بھاری سرین اور موٹی پنڈلیوں والا ہوا تو جان لینا کہ شریک بن سحماء کا ہے تو عورت اسی طرح کا بچہ جنی آپ نے فرمایا کہ اگر خدا کی طرف سے حکم لعان نہ آیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ میں اس کو کیسی سزا دیتا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment