کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
اللہ کا قول کہ کہیں شیطان تم کو جنت سے نہ نکلوا دے۔
حدیث نمبر
4387
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَالْکَهْفُ وَمَرْيَمُ وَطه وَالْأَنْبِيَائُ هُنَّ مِنْ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي وَقَالَ قَتَادَةُ جُذَاذًا قَطَّعَهُنَّ وَقَالَ الْحَسَنُ فِي فَلَکٍ مِثْلِ فَلْکَةِ الْمِغْزَلِ يَسْبَحُونَ يَدُورُونَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَفَشَتْ رَعَتْ لَيْلًا يُصْحَبُونَ يُمْنَعُونَ أُمَّتُکُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً قَالَ دِينُکُمْ دِينٌ وَاحِدٌ وَقَالَ عِکْرِمَةُ حَصَبُ حَطَبُ بِالْحَبَشِيَّةِ وَقَالَ غَيْرُهُ أَحَسُّوا تَوَقَّعُوا مِنْ أَحْسَسْتُ خَامِدِينَ هَامِدِينَ وَالْحَصِيدُ مُسْتَأْصَلٌ يَقَعُ عَلَی الْوَاحِدِ وَالِاثْنَيْنِ وَالْجَمِيعِ لَا يَسْتَحْسِرُونَ لَا يُعْيُونَ وَمِنْهُ حَسِيرٌ وَحَسَرْتُ بَعِيرِي عَمِيقٌ بَعِيدٌ نُکِّسُوا رُدُّوا صَنْعَةَ لَبُوسٍ الدُّرُوعُ تَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ اخْتَلَفُوا الْحَسِيسُ وَالْحِسُّ وَالْجَرْسُ وَالْهَمْسُ وَاحِدٌ وَهُوَ مِنْ الصَّوْتِ الْخَفِيِّ آذَنَّاکَ أَعْلَمْنَاکَ آذَنْتُکُمْ إِذَا أَعْلَمْتَهُ فَأَنْتَ وَهُوَ عَلَی سَوَائٍ لَمْ تَغْدِرْ وَقَالَ مُجَاهِدٌ لَعَلَّکُمْ تُسْأَلُونَ تُفْهَمُونَ ارْتَضَی رَضِيَ التَّمَاثِيلُ الْأَصْنَامُ السِّجِلُّ الصَّحِيفَةُ
محمد بن بشار، غندر، شعبہ، ابواسحاق، عبدالرحمن بن یزید، عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کہ بنی اسرائیل، کہف، مریم، طہ اور انبیاء یہ اگلی سورتیں میں جو کہ مکہ میں نازل ہوئی تھیں اور بہت ہی اچھی اور فصیح ہیں میری پرانی یاد کی ہوئی ہیں قتادہ کہتے ہیں کہ "جذاذا" کے معنی ٹکڑے ٹکڑے کے ہیں حسن بصری کہتے ہیں کہ" کل فی فلک" ہر ایک تارہ ایک آسمان میں گھومتا ہے جس طرح چرخہ گھومتا ہے حضرت ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ "نفثت" کے معنی ہیں چر گئیں "یصحبون" ہٹائے جائیں گے یاروکے جائیں گے "امتکم" کے معنی تمہارا دین مذہب عکرمہ کہتے ہیں کہ "حصب" کے معنی ہیں جلانے کی لکڑیاں دوسرے کہتے ہیں کہ "احسوا" کے معنی تو قع پائی یہ "احست" سے بنا ہے یعنی آہٹ پائی "خامدین" بجھے ہوئے "حصید'' جڑ سے کاٹی ہوئی یہ مفرد، تثنیہ، جمع سب پر بولا جاتا ہے "لا یستحسرون" اکتاتے نہیں'' حسیرا'' اسی سے نکلا ہے جیسے ''حسرت بعیری'' میں اونٹ کو تھکا دیا ''عمیق'' دراز دور ''نکسوا'' الٹے کئے گئے ''صنعۃ لبوس'' تمہارے لباس کی صنعت ''تقطعوا امرھم'' اپنے کام کو کاٹ دیا ''حسیس، حس، جرس اور ھمس'' سب کے ایک ہی معنی ہیں یعنی پست آواز ''اذناک'' آگاہ کیا تجھ کو ''اذنتکم'' میں نے تمہیں خبردی ''علی سواء'' برابری پر مجاہد کہتے ہیں کہ "لعلکم تسئلون'' کے معنی ہیں کہ شاید تم سمجھو ''ارتضی' راضی ہوا ''تماثیل'' کے معنی صورتیں ''سجل'' پلندہ ''صحیفہ'' کتاب کتابچہ-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment