کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
تفسیر سورۃ الدخان
حدیث نمبر
4470
حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّمَا کَانَ هَذَا لِأَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَوْا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ کَسِنِي يُوسُفَ فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّی أَکَلُوا الْعِظَامَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَی السَّمَائِ فَيَرَی مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا کَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنْ الْجَهْدِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَی النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَسْقِ اللَّهَ لِمُضَرَ فَإِنَّهَا قَدْ هَلَکَتْ قَالَ لِمُضَرَ إِنَّکَ لَجَرِيئٌ فَاسْتَسْقَی لَهُمْ فَسُقُوا فَنَزَلَتْ إِنَّکُمْ عَائِدُونَ فَلَمَّا أَصَابَتْهُمْ الرَّفَاهِيَةُ عَادُوا إِلَی حَالِهِمْ حِينَ أَصَابَتْهُمْ الرَّفَاهِيَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْکُبْرَی إِنَّا مُنْتَقِمُونَ قَالَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ
یحییٰ، ابومعاویہ، اعمش، مسلم، مسروق، عبد ﷲ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ یہ صرف اس سبب سے ہوا کہ قریش نے جب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تو آپ نے ان لوگوں کے حق میں یوسف علیہ السلام کی سی قحط سالی کی بد دعا فرمائی چناچہ وہ قحط سالی اور بھوک کی تکلیف میں مبتلا ہوئے یہاں تک کہ وہ لوگ ہڈیاں کھانے لگے اور یہ حال ہوگیا کہ کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اس کے اور آسمان کے درمیان دھواں کی طرح دکھائی دیتا چناچہ ﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان کھلا دھواں لے کر آئے گا لوگوں پر چھا جائے گا یہ درد ناک عذاب ہے راوی کا بیان ہے کہ کوئی شخص رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول ﷲ! صلی ﷲ علیہ وسلم ﷲ تعالیٰ سے مضر کے حق میں بارش کی دعا کیجئے اس لئے کہ وہ تباہ ہو گئے آپ نے فرمایا کیا مضر کے لئے؟ بیشک تو دلیر ہے چناچہ آپ نے بارش کی دعا فرمائی تو بارش ہوئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ انکم عائدون (بے شک تم لوٹنے والے ہو) پھر جب ان پر خوشحالی آئی تو وہ لوگ اپنی پہلی حالت میں لوٹ گئے تو ﷲ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْکُبْرَی إِنَّا مُنْتَقِمُونَ راوی کا بیان ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے (آیت) اے ہمارے پروردگار! ہم سے عذاب کو دور کردے بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment