کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
تفسیر سورۃ الدخان
حدیث نمبر
4471
حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ مِنْ الْعِلْمِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ مَا أَسْأَلُکُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَکَلِّفِينَ إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا غَلَبُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ قَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ يُوسُفَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ أَکَلُوا فِيهَا الْعِظَامَ وَالْمَيْتَةَ مِنْ الْجَهْدِ حَتَّی جَعَلَ أَحَدُهُمْ يَرَی مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَائِ کَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنْ الْجُوعِ قَالُوا رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ فَقِيلَ لَهُ إِنْ کَشَفْنَا عَنْهُمْ عَادُوا فَدَعَا رَبَّهُ فَکَشَفَ عَنْهُمْ فَعَادُوا فَانْتَقَمَ اللَّهُ مِنْهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَذَلِکَ قَوْلُهُ تَعَالَی فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَی قَوْلِهِ جَلَّ ذِکْرُهُ إِنَّا مُنْتَقِمُونَ
یحییٰ، وکیع، اعمش، ابوالضحیٰ، مسروق سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں عبد ﷲ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ علم کی بات یہ ہے کہ جس چیز کے متعلق تجھے علم نہ ہو تو تو کہے کہ ﷲ زیادہ جانتا ہے ﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے میں تم سے کسی اجر کا سوال نہیں کرتا اور نہ خود ساختہ باتیں کرتا ہوں قریش نے جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کا کہا نہ مانا اور سرکشی کی تو آپ نے فرمایا کہ یا ﷲ یوسف علیہ السلام کی قحط سالی کے ذریعہ ان کے خلاف ہماری مدد کر چناچہ وہ لوگ قحط میں گرفتار ہو گئے اور بھوک کے سبب سے ہڈیاں اور مردار کھانے لگے یہاں تک کہ بھوک کے سبب سے آدمی کو اس کے اور آسمان کے درمیان دھوئیں کی طرح نظر آتا ان لوگوں نے کہا ہمارے پروردگار! ہم سے عذاب کو دور کردے بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں اس کے جواب میں کہا گیا کہ اگر ہم ان سے عذاب دور کردیں تو وہ لوگ پھر ویسے ہی ہو جائیں گے آپ نے اپنے پروردگار سے دعا فرمائی تو ان سے عذاب دور کردیا گیا پھر وہ لوگ اپنی پہلی حالت پر لوٹ آئے تو ﷲ نے ان سے جنگ بدر میں انتقام لے لیا ﷲ کے قول (يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ) سے یہی مراد ہے- (آیت) ان کے لئے نصیحت کہاں مفید ہے حالانکہ ان کے پاس رسول کھول کر بیان کرنے والا آ چکا ذکر اور ذکری کے ایک ہی معنی ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment