کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
تفسیر سورۃ ص
حدیث نمبر
4455
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ عَنْ الْعَوَّامِ قَالَ سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنْ سَجْدَةٍ فِي ص فَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَيْنَ سَجَدْتَ فَقَالَ أَوَ مَا تَقْرَأُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ أُولَئِکَ الَّذِينَ هَدَی اللَّهُ فَبِهُدَاهُمْ اقْتَدِهْ فَکَانَ دَاوُدُ مِمَّنْ أُمِرَ نَبِيُّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ فَسَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَجَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُجَابٌ عَجِيبٌ الْقِطُّ الصَّحِيفَةُ هُوَ هَا هُنَا صَحِيفَةُ الْحِسَابِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ فِي عِزَّةٍ مُعَازِّينَ الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ مِلَّةُ قُرَيْشٍ الْاخْتِلَاقُ الْکَذِبُ الْأَسْبَابُ طُرُقُ السَّمَائِ فِي أَبْوَابِهَا قَوْلُهُ جُنْدٌ مَا هُنَالِکَ مَهْزُومٌ يَعْنِي قُرَيْشًا أُولَئِکَ الْأَحْزَابُ الْقُرُونُ الْمَاضِيَةُ فَوَاقٍ رُجُوعٍ قِطَّنَا عَذَابَنَا اتَّخَذْنَاهُمْ سُخْرِيًّا أَحَطْنَا بِهِمْ أَتْرَابٌ أَمْثَالٌ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْأَيْدُ الْقُوَّةُ فِي الْعِبَادَةِ الْأَبْصَارُ الْبَصَرُ فِي أَمْرِ اللَّهِ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّي مِنْ ذِکْرِ طَفِقَ مَسْحًا يَمْسَحُ أَعْرَافَ الْخَيْلِ وَعَرَاقِيبَهَا الْأَصْفَادِ الْوَثَاقِ
محمد بن عبد ﷲ، محمد بن عبید تنافسی، عوام سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سورہ صٓ کے سجدے کے متعلق پوچھا؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا کہ سورہ صٓ میں سجدہ کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ کیا تم یہ آیت نہیں پڑھتے کہ داؤد اور سلیمان ان کی اولاد میں سے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو ﷲ نے ہدایت دی پس ان کی ہدایت کی پیروی کرو چناچہ داؤد ان لوگوں میں سے ہیں جن کی پیروی کا تمہارے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا گیا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سجدہ کیا ''عجاب" کے معنی عجیب ''قط'' کے معنی صحیفہ یہاں نیکیوں کا صحیفہ مراد ہے مجاہد نے کہا'' فی عزۃ'' سے مراد''معازین'' (سر کشی کرنے والے) ہیں ''الملۃ الاخرۃ'' سے مراد ملت قریش ہے ''اختلاق'' کے معنی ہیں جھوٹ اسباب سے مراد ہے آسمان کے راستے اس کے دروازوے ہیں "جند ماھنالک مھزوم" میں "جند" سے مراد قریش ہیں اولئک الاحزاب سے مراد گزرے ہوئے لوگ ہیں'' فواق'' کے معنی ہیں دوبارہ لوٹ کر آنا ''قطنا'' کے معنی ہمارا عذاب ''اتخذناھم سخریا''یعنی ہم نے ان کو گھرلیا''اتراب''کے معنی ایک جیسے لوگ ہیں اور ابن عباس کے کہا ''الاید'' سے مراد عبادت کی قوت ''ابصار'' کے معنی ﷲ کے معاملہ میں دیکھنا ہے ''حب الخیر عن ذکر ربی'' میں من ذکر ربی مراد ہے (یعنی عن بمعنی من ہے) ''طفق مسحا ''یعنی گھوڑوں کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیر نے لگے ''اصفاد'' کے معنی ہیں بیڑیاں مجھ کو ایسا ملک عطاکر جو میرے بعد کسی کے لئے مناسب نہ ہو بیشک تو بہت بڑا بخشنے والا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment