کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
تفسیر سورۃ تبت یدا ابی لہب
حدیث نمبر
4621
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَبُو لَهَبٍ تَبًّا لَکَ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا فَنَزَلَتْ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ
عمر بن حفص، حفص، اعمش، عمرو بن مرہ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ ابولہب نے کہا تو ہلاک ہو جا کیا اسی لئے تو نے ہمیں جمع کیا تھا تو (تبت یدا ابی لھب) نازل ہوئی- (آیت) اور اس کی بیوی داخل ہوگی جو لکڑیاں لادلاتی ہے مجاہد نے کہا حمالۃ الحطب سے مراد یہ ہے کہ چغل خوری کرتی پھرتی تھی فی جیدھا حبل من مسد (اس کی گردن میں مونج کی رسی ہوگی) کے متعلق کہا جاتا ہے کہ مسد سے مقل کی چھال کی بٹی ہوئی رسی مراد ہے اس جگہ اس سے مراد وہ زنجیر ہے جو دوزخ میں اس کے گلے میں ہوگی-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment