کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
قرآن قریش اور عرب کی زبان میں نازل ہوا۔
حدیث نمبر
4632
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَائٌ وَقَالَ مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ قَالَ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّ يَعْلَی کَانَ يَقُولُ لَيْتَنِي أَرَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَلَمَّا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ عَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ أَظَلَّ عَلَيْهِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ جَائَهُ رَجُلٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ تَرَی فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً فَجَائَهُ الْوَحْيُ فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَی يَعْلَی أَنْ تَعَالَ فَجَائَ يَعْلَی فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا هُوَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ کَذَلِکَ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ أَيْنَ الَّذِي يَسْأَلُنِي عَنْ الْعُمْرَةِ آنِفًا فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَجِيئَ بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِکَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّکَ
ابو نعیم، ہمام، عطاء، (دوسری سند) مسدد، یحییٰ، ابن جریج عطار، صفوان بن یعلی بن امیہ سے روایت کرتے ہیں کہ یعلی کہا کرتے تھے کاش میں اس وقت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو دیکھتا جس وقت رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو جب نبی صلی ﷲ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں تھے ایک کپڑا آپ کے اوپر تھا جو آپ پر سایہ کئے ہوئے تھا اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ تھے اتنے میں ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جو خوشبو سے لتھڑا ہوا تھا اس نے عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم! اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے جبہ میں حج کا احرام باندھا ہو اور وہ خوشبو سے لتھڑا ہوا ہو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر انتظار کیا تو آپ پر وحی آئی حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے یعلی کو اشارہ سے کہا کہ یہاں آؤ یعلی آئے اور اپنا سر اندر داخل کیا تو دیکھا کہ اس وقت آپ کا چہرہ سرخ تھا اور خراٹے کی آواز نکل رہی تھی تھوڑی دیر تک آپ کی یہی حالت رہی پھر یہ کیفیت آپ سے دور ہوئی تو آپ نے فرمایا وہ آدمی کہاں ہے؟ جو ابھی عمرہ کے متعلق پوچھ رہا تھا ایک شخص نے اس کو ڈھونڈا اور وہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا آپ نے فرمایا کہ وہ خوشبو جو تجھ پر لگی ہوئی ہے اسے تین بار دھو دے اور جبہ کو اتار دے پھر عمرہ میں وہی افعال کر جو حج میں کرتا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment