Friday, July 1, 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:2074,TotalNo:4610


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
تفاسیر کا بیان
باب
تفسیر سورۃ زلزال
حدیث نمبر
4610
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَی رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِکَ فِي الْمَرْجِ وَالرَّوْضَةِ کَانَ لَهُ حَسَنَاتٍ وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ کَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ بِهِ کَانَ ذَلِکَ حَسَنَاتٍ لَهُ فَهِيَ لِذَلِکَ الرَّجُلِ أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلَا ظُهُورِهَا فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِئَائً وَنِوَائً فَهِيَ عَلَی ذَلِکَ وِزْرٌ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحُمُرِ قَالَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةَ الْجَامِعَةَ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
اسمعیل بن عبد ﷲ، مالک، زید بن اسلم، ابوصالح، سمان، حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے انہوں نے بیان کیا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑے تین قسم کے لوگوں کے پاس ہوتے ہیں ایک شخص کے لئے اجر کا باعث دوسرے کے لئے پردہ پوشی اور تیسرے کے لئے گناہ کا سبب ہے وہ شخص جس کے لئے اجر کا سبب ہے تو وہ شخص ہے جس نے اسے ﷲ کے راستہ میں باندھا اور اس کو کسی چراگاہ یا باغ میں لمبی رسی سے باندھا اس چراگاہ اور باغ میں اسی رسی کے طول میں جہاں تک پہنچے اس کو ثواب ملے گا اور اگر اس نے رسی توڑ دی ایک یا دو اونچی جگہ پر کودا تو اس کے قدم اور پھدکنے کے بدلے ثواب ملے گا اور اگر وہاں ایک نہر کے پاس سے گزرا اور اس سے پانی پی لیا حالانکہ اس سے پلانے کا قصد نہیں تھا تو اس میں اس کے لئے نیکیاں ہیں یہ گھوڑا اس آدمی کے لئے باعث اجر ہے اور وہ شخص جس نے تجارت میں نفع حاصل کرنے اور سوال سے بچنے کے لئے گھوڑا باندھا اور اس کی گردن اور پیٹھ میں ﷲ کا حق نہ بھولا (اس کی زکوۃ دی) تو یہ اس کے لئے پردہ پوشی ہے اور وہ شخص جس نے اس کو فخر و غرور اور ریاء کے لئے باندھا تو یہ اس پر گناہ ہے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ پر اس کے متعلق بجز اس جامع آیت کے کوئی اور آیت نازل نہیں ہوئی کہ جس نے ذرا برابر برائی کی تو وہ بھی اس کو دیکھ لے گا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment