کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
اس شخص کی دلیل جس نے تین طلاقوں کو جائز کہا ہے
حدیث نمبر
4891
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَائَ إِلَی عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّی کَبُرَ عَلَی عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَی أَهْلِهِ جَائَ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمٌ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ کَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّی أَسْأَلَهُ عَنْهَا فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّی أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيکَ وَفِي صَاحِبَتِکَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ سَهْلٌ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ کَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَکْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَکَانَتْ تِلْکَ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ
عبد ﷲ بن یوسف، مالک، ابن شہاب، سہل بن سعد ساعدی سے روایت کرتے ہیں کہ عویمرعجلانی، عاصم بن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے پوچھا اے عاصم! بتاؤاگرکوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے اگر وہ اس کو قتل کردیتا ہے تو تم اسے قصاص میں قتل کردیتے ہوپھروہ (بیچارہ) کیا کرے، اے عاصم اس کے متعلق نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے میری خاطردریافت کر، عاصم نے اس کے متعلق رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم سے پوچھاتوآپ نے ان مسئلوں کو (جوبلاضرورت پوچھے جائیں) برا جانا اور معیوب سمجھا، عاصم نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے جوبات سنی وہ ان کو گراں گزری جب عاصم اپنے گھر واپس ہوئے تو عویمر نے آکر پوچھا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے کیا فرمایا، عاصم نے فرمایا تم میرے پاس اچھی چیز نہیں لائے، نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے میرے اس سوال کو جو میں نے آپ سے کیا برا سمجھا ہے، عویمرنے کہا میں باز نہیں آؤں گاجب تک کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھ نہ لوں، چناچہ عویمر خود آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور لوگوں کی موجودگی میں پوچھا کہ یا رسول ﷲ! اگرکوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے اور وہ اس کو قتل کردے تو آپ اس سے قصاص لیتے ہیں بتائیے پھر وہ کیا کرے- رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے متعلق اور تمہاری بیوی کے متعلق ﷲ کا حکم نازل ہوچکا ہے جاؤ اس کو لیکر آؤ، سہل نے پھر ان دونوں نے لعان کیا اور میں نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ موجودتھا، جب دونوں لعان سے فارغ ہوگئے، تو عویمر نے کہا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم اگر میں اس کو روک لوں، تو میں جھوٹا ہوں گا، پھررسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے اس کو تین طلاق دے دیں، ابن شہاب نے کہا کہ لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ ہوگیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment