کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
اس شخص کی دلیل جس نے تین طلاقوں کو جائز کہا ہے
حدیث نمبر
4892
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَائَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي وَإِنِّي نَکَحْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ الْقُرَظِيَّ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّکِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَی رِفَاعَةَ لَا حَتَّی يَذُوقَ عُسَيْلَتَکِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ
سعیدبن عفیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رفاع قرظی کی بیوی آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا یا رسول ﷲ! رفاع نے مجھے طلاق دیدی اور طلاق بتہ دی، میں نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیرقرضی سے نکاح کیا لیکن اس کے پاس کپڑے کے پھندنے کی طرح ہے یعنی نامرد ہے، آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا شاید تو رفاع کے پاس جانا چاہتی ہے؟ لیکن ایسا نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ تجھ سے اور تو اس سے لطف اندوزنہ ہولے-
No comments:
Post a Comment