Saturday, July 2, 2011

Jild3,Bil-lihaaz Jild Hadith no:271,TotalNo:4922


کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
طلاق اور دیگر امور میں اشارہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر
4922
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فَسَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ وَقَالَ بِيَدِهِ وَوَضَعَ أُنْمُلَتَهُ عَلَی بَطْنِ الْوُسْطَی وَالْخِنْصِرِ قُلْنَا يُزَهِّدُهَا وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ عَدَا يَهُودِيٌّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی جَارِيَةٍ فَأَخَذَ أَوْضَاحًا کَانَتْ عَلَيْهَا وَرَضَخَ رَأْسَهَا فَأَتَی بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِي آخِرِ رَمَقٍ وَقَدْ أُصْمِتَتْ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَکِ فُلَانٌ لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا قَالَ فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا فَأَشَارَتْ أَنْ لَا فَقَالَ فَفُلَانٌ لِقَاتِلِهَا فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
مسدد، بشربن مفضل، سلمہ بن علقمہ، محمدبن سیرین، ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے کہ مسلمان اس وقت کھڑا ہوکر نماز پڑھتا ہے اور ﷲ تعالی سے کوئی بھلائی کی دعا کرتا ہے تو ﷲ اسکوعطا فرما دیتا ہے اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کی پور درمیانی انگلی اور چھوٹی انگلی پر رکھی یعنی ایسے لوگوں کی قلت کو ظاہر فرمایا اور اویسی نے بیان کیا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بواسطہ شعبہ بن حجاج، ہشام بن زید، انس بن مالک کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک چھوکری پر ظلم کیا اس کا زیوروغیرہ چھین لیا اور اسکا سر کچل ڈالا، اسکے گھر والے اسکو لے کر رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اس حال میں کہ وہ زندگی کے آخری سانس لے رہی تھی اور خاموش تھی، اس سے آنحضرت صلی ﷲ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تجھے کس نے قتل کیا، آپ نے قتل کرنے والے کے علاوہ کسی دوسرے کا نام لے کر پوچھا، اس نے اپنے سرکے اشارے سے جواب دیا کہ نہیں، پھر کسی اور کا نام لے کر پوچھا تو اس نے اشارے سے کہا کہ نہیں، پھر قاتل کا نام لے کر پوچھا کیا اس نے قتل کیا ہے؟ تو اس نے اشارے سے بتلایا کہ ہاں! چناچہ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس (قاتل) کا سر دوپتھروں کے درمیان رکھ کرکچل دیاگیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment