کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
اس باب میں کوئی عنوان نہیں
حدیث نمبر
4913
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأَبَی مَوَالِيهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَائَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ إِنَّ هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَی بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
عبد ﷲ بن رجاء، شعبہ، حکم، ابراہیم، اسود کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہا نے بریرہ کو خریدنا چاہا، اس کے مالکوں نے انکارکردیا مگراس شرط پر راضی ہوئے کہ حق ولاء انہیں حاصل ہو، عائشہ رضی ﷲ عنہا نے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو خرید لواور آزاد کردو، اس لئے کہ ولاء تو اسی کے لئے ہے جس نے آزاد کیا، اور آپ کے پاس گوشت لایا گیا اور کہا گیا کہ یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا، تو آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے، لیکن ہمارے لئے ہدیہ ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment