کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
بریرہ کے شوہر کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفارش کرنا
حدیث نمبر
4912
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ کَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْکِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَی لِحْيَتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعبَّاسٍ يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَاجَعْتِهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي قَالَ إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ قَالَتْ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ
محمد، عبدالوہاب، خالد، عکرمہ، ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ بریرہ کا شوہر ایک مغیث نامی غلام تھا، گویا میں اسے دیکھ رہاہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے روتا ہوا گھوم رہاہے، آنسو اس کی داڑھی پر گررہے ہیں، آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی ﷲ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، اے عباس! کیا تمہیں بریرہ سے مغیث کی محبت اور بریرہ کی مغیث سے عداوت پر تعجب نہیں ہوتا، پھرآپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کاش! تو اسے لوٹا لے، یعنی رجوع کرلے، اس نے کہا یا رسول ﷲ! کیا آپ مجھے حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا (نہیں بلکہ) میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں، بریرہ نے کہا تو پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment