کتاب حدیث
صحیح بخاری
کتاب
طلاق کا بیان
باب
خلع اور اس امر کا بیان کہ خلع میں طلاق کس طرح ہوتی ہے۔
حدیث نمبر
4903
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَکِنِّي أَکْرَهُ الْکُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْبَلْ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً
ازہر بن جمیل، عبدالوہاب ثقفی، خالد، عکرمہ، ابن عباس رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول ﷲ میں ثابت بن قیس سے کسی بری عادت یا دینداری کی وجہ سے ناراض نہیں ہوں، لیکن میں حالت اسلام میں ناشکری نہیں کرنا چاہتی ہوں، رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس کا باغ اس کو واپس کرنے کو تیارہے، اس نے کہا ہاں! آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس سے فرمایا کہ اس کا باغ لے لو اور اس کو ایک طلاق دے دو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment